تعلیمی اداروں میں قبل از وقت چھٹیاں مجبوری بن گئی

اسلام آباد (اہم نیوز) کورونا کے پھیلاؤ میں اضافے کے باعث این سی او سی نے بڑےعوامی تقریبات پر پابندی ، ہائی رسک ایریاز میں پابندیاں سخت کرنے اور اسکولوں میں موسم سرما کی قبل از وقت تعطیلات دینے کی سفارش کردی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس ہوا۔ نجی ٹی وی اے آر وائے کے مطابق

نیشنل کوآرڈینیٹراین سی او سی لیفٹیننٹ جنرل حمودالزمان ، وزیرتعلیم شفقت محمود،معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر قومی ادارہ صحت میجرجنرل عامر اکرام شریک ہوئے جبکہ صوبائی چیف سیکرٹریز نے بذریعہ ویڈیولنک شرکت کی۔اجلاس میں ملک میں کورونا کیسز، ایس اوپیز پرعملدرآمد اور تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز کی صورتحال پر غور کیا گیا۔صوبائی چیف سیکریٹریز نے کورونا کیسز،ایس او پیزپرعملدرآمد اور متاثرہ علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے بعد کی صورتحال پر بریفنگ دی۔کورونا کے پھیلاؤ میں اضافے پر این سی او سی اجلاس میں بڑے فیصلے کئے گئے ، این سی او سی نے بڑےعوامی تقریبات پر پابندی اور کورونا کے ہائی رسک ایریاز میں پابندیاں سخت کرنے کی سفارش کر دی ، تجویزکےمطابق پانچ سو سے زائد افراد کے اجتماع پرفوری پابندی لگائی جائے۔وفاقی و صوبائی متعلقہ حکام نے این سی او سی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کورونا کے پھیلاؤکی شرح میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور تعلیمی اداروں میں بھی مثبت کیسزکی شرح بڑھ رہی ہے۔جبکہ این سی اوسی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیرتعلیم کی زیرصدارت 16نومبر کو اعلیٰ سطح اجلاس ہوگا، 16نومبر کے اجلاس میں تعلیمی اداروں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا پھیلاؤ روکنے کیلئے تعلیمی اداروں میں قبل ازقت موسم سرما کی تعطیلات کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ سکولوں کو غیرمعینہ مدت کیلئے بند کردیا جائے صرف این سی اوسی کی سفارشات پر عمل کیا جائے اور موسم سرماکی چھٹیاں قبل ازوقت دے کر ان میں تھوڑا اضافہ کردیا جائے۔
انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این سی اوسی نے کورونا پھیلاؤ روکنے کیلئے بالکل ٹھیک سفارشات کی ہیں ان سفارشات میں پرہجوم جگہوں پرجانا، ماسک، سکولوں اور اجتماعات کے حوالے سے شامل ہیں۔ ہمارے پاس کورونا کو ڈیل کرنے کا تجربہ وسائل اور ماہرین بھی موجود ہیں،میں دوچیزیں بتانا چاہتا ہوں ، جس میں پہلا لفظ یہ ہے کہ ہمیں این سی اوسی کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کرنا چاہیے، ان سفارشات پر پوری دلجمعی کے ساتھ عمل کرنا ہوگا۔کورونا پچھلے دس ہفتے سے بڑھ رہا ہے لیکن ہم سست ہیں، میرے خیال میں رابطوں کا فقدان ہے، دوسرا لفظ رابطوں کا فقدا ن ہے۔ رابطوں کے فقدان سے میری مراد یہ ہے کہ خود اسد عمر آخری این سی اوسی کی میٹنگ میں کہہ چکے ہیں کہ ہم نے جو سفارشات رکھی ہیں، ان پر صوبوں کا اتفاق نہیں ہے، اس وجہ سے پورے ملک میں ہم عملدرآمد نہیں کروا پارہے۔ایک مرحلہ تھا کہ ٹرانسپورٹ، دکانوں، کارخانوں میں جو لوگ ایس اوپیز پر عمل نہیں کررہے تھے ان کو جرمانے کیے جارہے تھے، لیکن اب وہ گرفت نظر نہیں آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم نے خود ماسک پہننا شروع کیا تھا تو اس کا بڑا اثر ہوا تھا کہ پورے ملک میں لوگ ماسک پہن رہے تھے۔ اگر ہم نے ان کو فوری اقدامات کرکے نہ روکا تو یورپ کی طرح ہمیں بھی مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ سکولوں کو بند نہ کرنے سے فرق پڑے گا، کیونکہ سکولوں میں کیسز آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ سکولوں کو غیرمعینہ مدت کیلئے بند کردیا جائے صرف این سی اوسی کی سفارشات پر عمل کیا جائے اور موسم سرماکی چھٹیاں قبل ازوقت دے کر ان میں تھوڑا اضافہ کردیا جائے۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں