قائدین جمعیت اہلسنت نے حکومت سے بڑا مطالبہ کر دیا بیورورپورٹ

اسلام آباد( بیورو رپورٹ)جمعیت اہلسنت کے قائدین نے کہاہے کہ اسلام آبادانتظامیہ شہیدمساجد ومدارس کو فی الفور دوبارہ تعمیر کرے ،مساجد ومدارس کے خلاف اسلام آبادانتظامیہ کاجانب دارانہ رویہ سانحہ لال مسجد جیسے واقعات کورونما کرنے کاسبب بن سکتاہے حکومت مساجد ومدارس کی شہادت اور انہدام کافی الفور نوٹس لے کر گرائی گئی مساجد دوبارہ تعمیر کرے وگرنہ علماء ازخود مساجد کی تعمیراوراحتجاجی مارچ کااعلان کریں گے جامعہ حفصہ کوایچ الیون اسلام آبادمیں دئیے گئے پلاٹ پر مدرسہ کی تعمیر ہوگی محکمہ داخلہ، اسلام آبادانتظامیہ اور دینی قیادت کے درمیان طے شدہ امور کومتنازعہ نہ بنایاجائے مساجد کعبۃاللہ کی بیٹیاں ہیں انکے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اسلام آبادانتظامیہ کی یہ روش حکومت وریاست کوبدنام کرنے کی سازش ہے ان خیالات کااظہارمختلف دینی جماعتوں کے قائدین نے جامعہ محمدیہ ایف سکس اسلام آبادمیں جمعیت اہلسنت کے پلیٹ فارم سے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیاپریس کانفرنس سے مولاناظہوراحمدعلوی ،مولاناعبدالمجید ہزاروی ،مفتی محمدعبداللہ ،مولانا عبدالرحمن معاویہ ،مولانانذیر فاروقی ،مولاناعبدالغفار ،مفتی عبدالسلام،قاری سہیل عباسی،مولاناعبدالخالق ہزاروی ،مولاناابوبکرصابری ودیگر نے خطاب کیاانھوں نے کہاکہ اسلام آبادانتظامیہ مساجد ومدارس کاانہدام بندکرے اب تک گرائی گئی مسجد علی المرتضیٰ سیکٹر ای الیون فور،مسجد ابوبکرE-12/2 مسجد بلال سیکٹر F-12کوفی الفور تعمیر کیا جائے اور جن مساجد کوسیل کیاگیا ان مساجد کوعوام کے لئے فوری طور پر کھولا جائے تاکہ عوام اللہ کے حضور اپنی عبادات کرسکیں مساجد کو انہدام کے لئے جاری کیے گئے نوٹس فی الفور واپس لیے جائیں مساجد کعبۃ اللہ کی بیٹیاں ہیں ان کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے گرائی گئی مساجد کی دوبارہ تعمیر ،سیل مساجد کوبحال اور گرانے کے نوٹس واپس نہ لئے گئے توا سلام آبادکی سٹرکوں پر تحفظ مساجد ومدارس مارچ اسلام آبادکی انتظامیہ کوشہید مساجد ووبارہ تعمیر کرنے پر ضرور مجبور کرے گااور حالات کی تمام تر ذمہ داراسلام آبادانتظامیہ ہوگی


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں