پاکستان میں کامیاب اور پرسکون ذندگی گزارنے کے 14 بنیادی اصول

جیسے جراثیم کش صابن99.99 فیصد جراثیم مارتا ہے لیکن جو اعشاریہ زیرو ایک فیصد رہ جاتے ہیں وہ بیماری آگے نہیں پھیلائیں گے اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے، ویسے ہی انسان کی وحشت اور جہالت بھی اسی طرز پر 99.99 فیصد دبائی تو جا سکتی ہے مگر مکمل طور پر اسے ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہ جبلت کیا گل کھلائے، یہ کہنا بھی ناممکن ہے۔

اس لیے زندگی گزارنے کے آداب کے ساتھ ساتھ زندہ رہنے کے آداب سکھانا بھی اب ضروری ہو گیا ہے۔

کیا آپ زندہ رہنے کے آداب سے واقف ہیں؟ آپ کے پاس اس کا جواب یقیناً ہوگا اور آپ بڑے مقدس قسم کے حل میرے سامنے لا کر رکھ سکتے ہیں۔ اب تک کی پریکٹس کے مطابق اگر میں آپ کی بات ماننے سے انکار کردوں تو آپ میری جان کے دشمن بھی ہو سکتے ہیں اور ایسا نہ ہونے کے امکانات بھی 99 اعشاریہ 99 فی صد ہی ہیں۔

یہ شرح اکثر و بیشتر حاوی ہوجاتی ہے۔
مجھ جیسوں کی عافیت اسی میں ہے کہ آپ جو بھی کہیں وہ درست مانا جائے۔ سوال ممکن ہے کہ سچائی، سیدھے راستے پر رہنا اور درست بات پر ڈٹے رہنا، یہ سب بچپن کے سبق کہاں جائیں گے؟

تو کیا آپ ہمیشہ سچ بول کر سر خرو ہوئے؟ بچپن میں امی کے وعدے پر یقین کر کے سچ اگلنے سے لے کر آج تک جب بھی کوئی جب کہتا ہے کہ سچ بتاؤ کچھ نہیں کہوں گا؟ اس سارے سفر میں کیا آپ نے امی کی جوتی سے لے کر لوگوں کی لعنت ملامت تک کے مراحل نہیں طے کیے؟

اگر نہیں کیے تو آپ تیسری دنیا کے تیسرے درجے کے شہری نہیں ہیں۔

اگر آپ بچپن میں نہیں سمجھے کہ اصل بات چھپا جانے میں عافیت ہے تو آپ اس عمر میں آ کر جوتوں ڈنڈوں کی بجائے سیدھے کسی کی گولی کا نشانہ بھی بن سکتے ہیں۔
احمدی برادری کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کرے؟

ہماری درسی کتب اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مواد

اگر آپ ریاست کی عوام دشمن پالیسیوں پر بات کریں گے تو آپ غدار ہو سکتے ہیں۔

کسی ادارے میں کسی قسم کے تعصب یا اقربا پروری کے خلاف بات کریں گے تو آپ کو کسی بھی نوعیت کا سنگین گستاخ ٹھہرا کر موت کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کا کسی سے مسلکی اور مذہبی اختلاف ہے تو رکعتوں کی تعداد پر اختلاف کی وجہ سے کوئی بھی آپ کو کہیں بھی ختم کر کے جا سکتا ہے۔ اقلیت میں ہیں تو موت بانٹنے والے نیکو کار کہیں بھی کسی بھی گلے محلے سے نمودار ہو کر آپ پر عتاب نازل کرسکتے ہیں۔
کوئی کبھی بھی ذاتی اختلاف کو مذہبی رنگ دے کر آپ کا سر قلم کر سکتا ہے۔
تو ایسے میں لمبی طبعی عمر کیسے پائی جائے؟ کیونکہ اب قوت مدافعت بڑھانے کے ٹوٹکے، دوائیاں اور ایس اوپیز تو موجود ہیں لیکن قتل کرنے کے لیے اٹھے ہاتھ یا ہتھیار سے بچنے کا کوئی جادو ٹونا یا منتر موجود نہیں ہے۔

بہت غور کرنے کے بعد مجھےزندہ رہنے کے لیے یہ نکات سمجھ میں آئے ہیں، آپ بھی غور کریں۔

1۔ اگر آپ سوچتے ہیں تو اظہار کرنا چھوڑ دیں۔ سوچنے کی بھی کیا ضرورت ہے زندگی آپ کے سوچے بغیر بھی گزر ہی رہی ہے۔

2۔ منافقت کیجئے اور اسے مصالحت سمجھ کر گزارا کر لیجئے کہ زندہ رہنا بہر حال ضروری ہے۔

3۔ اٹھتے بیٹھتے آتے جاتے لوگوں کے سامنے اپنے ایمان کی قسمیں اٹھائیے تا کہ مقتول ہونے کی صورت میں لوگ آپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے آپ کے ایمان کی گواہی پیش کر سکیں۔

4۔ بھیڑ چال کا حصہ بنیے کہ اس میں عافیت ہے۔

5۔ ایک ہاتھ سے رشوت لیجئے دوسرے سے رشوت دیجئے اور ساتھ ساتھ راشی اور مرتشی کو برا بھلا کہتے جائیے۔

6۔ عبادت کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کیجئے جہاں سے لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ کے زاہد و عابد ہونے کے گواہ بن سکیں ۔

7۔ جیسے ہی دین سے دوری کی بات آئے سارا الزام بے پردہ عورتوں پر ڈال دیجیے۔

8۔ آپ خود جو مرضی کریں لیکن کسی کوشک کا فائدہ بھی مت دیں، ورنہ لوگ آپ کو مجرم سمجھیں گے۔

9۔ جھوٹ بولیے کہ سچ میں برکت کے قصے پرانے ہو چکے ہیں۔

10۔ دنیا محبت پر قائم ہے، یہ راگ گائیے لیکن محبت کرنے والوں کو غیرت کے نام پر قتل ضرور کیجیے کیونکہ محبت کی باتیں کتابوں کہانیوں اور فلموں تک ہی جچتی ہیں۔ دنیا دراصل جنگ اور تصادم کی بنیاد پر چلتی ہے۔

11۔ ایک بات اچھی طرح سمجھ لیں ‘صفائی نصف ایمان ہے، جھوٹے پر خدا کی لعنت اور ریپسٹ ہم میں سے نہیں‘ ۔ دن میں کم از کم دس سے بیس بار لازمی یہ باتیں لوگوں کےسامنے دہراتے جائیں پھر چاہے سڑکوں پر کوڑا پھینکیے ، سارا دن جھوٹ بولیے۔ بچوں، عورتوں اور جانوروں کو بھی ہراساں کرتے رہیں کوئی آپ کو نہیں پکڑ سکے گا۔

12۔ کچھ بھی کر کے پیسہ کمائیے پھر مسجدیں بنوائیے، حج کیجیے اور چند ایک غریب گھروں کی مدد کر کے اس بلیک منی کو سفید کیجیے۔

13۔ اگر آپ یہ سب کچھ نہیں کر سکتے تو پھر ایک بلٹ پروف، ڈنڈا پروف اور موت پروف قسم کا لباس سر سے لے کر پاؤں تک پہن لیجیے کہ ہم آپ وباؤں سے بچ نکلے تو ہمارے لوگ ہی ہمیں موت کے گھاٹ اتارنے کو تیار بیٹھے ہوں گے۔

14۔ اس دور میں لمبی عمر پانے کا راز یہ ہی ہے کہ زبان، آنکھیں اور دماغ بند رکھے جائیں۔

بھائیو اور بہنو! جان ہے تو جہان ہے، جان بچی سو لاکھوں پائے اور ا س جیسی دیگر ضرب الامثال کو مضبوطی سے تھام لیں اور جیتے رہیں۔

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں