جرگہ سلیم صافی کے ساتھ۔ایک نیا جرگہ سامنے آگیا۔بیورورپورٹ

جرگہ پاکستان

یوں تو دنیا کے نقشے میں شاید ہی کوئی اسلامی ریاست ایسی ہو جس کو مکمل طور پر امن اور مستحکم قرار دیا جا سکے اور وہاں بسنے والے لوگوں کو خوشحالی اور ترقی یافتہ سمجھا جاسکے، اگر کہیں ریاستی معاملات میں الجھنیں ہیں تو کہیں عوام سطح پر حالات ناخوشگواری کا شکار ہیں، اگر کسی ملک میں معاشی مسائل ہیں تو کوئی مذہبی و مسلکی مسائل سے دو چار ہیں جبکہ بعض مسلم ممالک کے درمیان دشمنیوں جیسی صورتحال بھی پائی جاتی ہے، ایسے میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مسلم ممالک اندرونی و بیرونی سطح پر اس وقت لاشعوری طور پر غیروں کی پالیسی لڑاؤ اور حکومت کرو کا شکار ہیں۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ وہ قوم جس نے صدیوں دنیا کی حکمرانی کی، جس کی ایجادات سے باقی قومیں مستفید ہوتی تھیں، جن کی سائنسی تحقیقات کو دلیل سمجھا جاتا تھا جن کے رہن سہن، لین دین کو قدر سے دیکھا جاتا تھا، جن کے نظام حکمرانی کو دیکھ کر سلطنتیں ترقی حاصل کرتی تھیں آج وہی قوم ان تمام باتوں میں غیروں کی محتاج ہو چکی ہے جس کی اصل وجہ وہی مسلم امہ کی باہمی رنجشیں اور اختلافات ہیں جس کا خمیازہ تمام مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

اس بات کا مشاہدہ پاکستان کے ماضی اور حال کے تمام حالات و واقعات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب سے پاکستان نے ایک نئی اسلامی ریاست سے پہچان حاصل کی تب سے ہی غیروں کی آنکھ میں پاک دھرتی کھٹکنے لگ گئی، مختلف ادوار میں اسے مختلف طریقوں سے کمزور کرنے اور دنیا کے نقشے سے ختم کرنے کی سازشیں کی گئیں، اس کے ریاستی معاملات میں مداخلت کی کوششیں کی گئیں، ہمیں ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازشیں ہوئیں جن کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے الگ کر دیا گیا جبکہ موجودہ دور میں بھی اس طرح کی سازشیں عروج پر ہیں، پنجاب کے رہنے والوں کو طیش میں لا کر دوسرے صوبوں کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے، کبھی بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والوں میں احساس محرومیت کا عنصر پیدا کر کے دوسروں کے بارے میں نفرت کا بیچ بونے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی سندھی اور مہاجر کی تفریق پیدا کر کے اجتماعیت کو پاش پاش کرنے کی چالیں کھیلی جاتی ہیں ناصرف یہ بلکہ شیعہ سنی اور وہابی سنی جیسی مسلکی تنازعات کھڑے کر کے بھی پاکستانی قوم کو آپس میں دست و گریبان کرنے کی کوشش کی گئی اور سازشی عناصر کی ایسی کوششیں اب بھی جاری ہیں، اب بھی پاکستانی قوم میں بے چینی اور افراتفری کی فضا قائم رکھنے اور ذہنی طور پر دباؤ میں رکھنے کیلئے نت نئے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ایسے حالات میں اگر کوئی پاک وطن میں امن، محبت، سلامتی اور بھائی چارہ کا خوشگوار ماحول پیدا کرنے کی بے لوث خدمت کرتا ہے تو یقینا وہ شخص، وہ تنظیم اور وہ لوگ ناصرف قابل تعریف ہیں بلکہ ہر ذی شعور پاکستانی کو اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے ان کا ساتھ ہر ممکنہ تعاون کرنا چاہیے۔

حال میں ہی جرگہ پاکستان کے نام سے منظر عام پر آنے والا پلیٹ فارم بھی امن کا پیغام لیے اسلام آباد سے باقاعدہ اپنے وجود کا اعلان کر چکا ہے، جرگہ پاکستان کے تحت اتوار کے روز اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی تقریب امن کی جانب کامیابی کا پہلا زینہ ثابت ہوئی جس میں پاکستان کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو یقیناً جرگہ پاکستان کے روح رواں عابد آفریدی اور ان کے ساتھ لالہ عارف خٹک کی شب و روز محنت اور کوششوں کا نتیجہ تھا، جرگہ پاکستان کے اس پروگرام کو اس لیے بھی بڑی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے کہ جہاں پروگرام کے مہمانوں میں رحیم اللہ یوسفزئی، آصف محمود، مجاہد خٹک، اباسین یوسفزئی، حسن خان، شاہد خٹک جیسے نامور اور سینیئر حضرات موجود تھے وہیں موجودہ دور میں غیرمعمولی شہرت یافتہ پشتون تحفظ موومنٹ کے نمائندے بھی شریک تھے جبکہ اسی پروگرام میں گورنر کے پی کے شاہ فرمان نے بھی بطور خاص شرکت کی اور جرگہ پاکستان کے عہدیداروں کو گرینڈ جرگہ کی پیش کش اور امن کی خاطر تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔

جرگہ پاکستان کے تمام دوستوں خصوصا عابد آفریدی کو جرگہ پاکستان کا پہلے بڑے اور کامیاب پروگرام کے انعقاد پر بہت بہت مبارک اس امید کے ساتھ کہ
انہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا
اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے

انوارالحق_مغل

چھوٹا_پراٹھا


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں