شہرِ اقتدار اسلام آباد کے مضافاتی ایریا سرائے خربوزہ میں درندہ صفت باپ کی اپنی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی

شہرِ اقتدار اسلام آباد کے مضافاتی ایریا سرائے خربوزہ میں درندہ صفت باپ کی اپنی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی

تھانہ ترنول کی حدود میں نہ زمین پھٹی نہ آسمان باپ اپنی بیٹی کوجنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا سفاک باپ نے دس سال کی عمر میں پہلی بار معصوم بیٹی سے زیادتی کرنے کی کوشش کی

بچی جب 14 سال کی عمر کو پہنچی تو ظالم درندہ صفت باپ نے آپ نے سگی بیٹی سے جنسی درندگی شروع کردی

ملزم کئی سالوں تک متعد د بار اپنی بچی کو ہوس کا نشانہ بناتارہا۔ سفاک باپ نے اس گھناؤنے راز پر پردہ ڈالنے کی خاطر بیٹی کوسرگودھا لے جا گھر مار پیٹ کرتا تھا۔تفصیلات کے مطابق ارشد وسیم جو کہ سرگودھا کا رہائشی ہے 302 کے مقدمے میں جیل گیا اس دوران ارشد وسیم کی بیوی نے اس سے طلاق لے لی اور ارشد وسیم کے چھوٹے بھائی سے نکاح کر لیا جیل سے واپس آنے کے بعد اپنی دونوں بیٹیوں کو اپنے ساتھ سرگودھا لے گیا اب اس کی بڑی بیٹی جس کی عمر 10 سال تھی اس کے ساتھ نازیبا حرکت کرتا رہا اور چھ سال سےجنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا بچی نے اپنی والدہ سے ملنے کا اظہار کیا تو اُس کے والدین کو ساری صورت حال سے آگاہ کر دیا۔ جسے سُن کر اس شرط پر والدہ کے پاس آنے کی اجازت دی کہ وہ کوئی بات نہیں اپنی والدہ کو نہیں بتائے گی

بچی جب اپنی والدہ کے پاس آئی تو واپس نہیں جانا چاہتی تھی جس پر ارشد وسیم نے اس کو مار پیٹ کرنا شروع کر دی بعد ازاں بچی نے اپنی والدہ کو ساری بات بتا دیں جس پر اس کی والدہ غصے میں آئی اور جھگڑا ہوا جس پر 15 پر کال کی گئی اور پولیس ساری فیملی کو تھانہ ترنول لےگی

بچی نے اپنی ساری روداد تھانہ ترنول میں ایس ایچ او رشید گجر اور یہ اے ایس آئی ظفر اقبال کو سنائی جنہوں نے ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے گھر بھیج دیا دوسرے دن ارشد وسیم کا میڈیکل کروا کے اس کی درخواست پر عمل درآمد شروع کر دی

معصوم کلی نے انصاف کے لئےوزیراعظم پاکستان عمران خان اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے

ایسے ظالم درندا صفت انسان کے خلاف ایسی سزا تجویز کی جائے جو معاشرے کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں

اس کے ساتھ ساتھ معصوم کلی بہت سارے سوالات اس معاشرے پر بھی کرتی ہے

چار دیواری کا تقدس تو چیر پھاڑ ڈالا ایک ظالم باپ نے اس کے ساتھ ساتھ وردی کے اندر چھپے بھیڑیوں نے بھی اس ظالم کا بھرپور ساتھ دیا

تھانہ ترنول پولیس حسب روایت جھوٹی ایف آئی آر کے ساتھ ساتھجرائم پیشہ افراد اور ظالم درندوں کا ساتھ دیتی ہے

آئی جی اسلام آباد کے قوانین پالیسیاں اور ماڈل پولیس کے دعوی سب کے سب بلبلے کی مانند لگتے ہیں

وزیراعظم پاکستان اور خاص کر آئی جی اسلام آباد کو پولیس کے اندر چھپی ہوئی کالی بھیڑوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لانے ہوگی

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں