جمہوریت کی خاطر امریکہ نے مداخلت کا فیصلہ کر لیا۔رپورٹ ماریہ خان

واشنگٹن(اہم نیوز) امریکا نے وینزویلا میں فوجی کاروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی ممکن ہے اور امریکا ااس پر سنجیدگی سے غور کررہا ہے . امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیونے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ لوگ جمہوریت کے دفاع کے لیے سڑکوں پر ہیں اور امریکا انہیں مایوس نہیں کرئے گا . امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کی حمایت کر رہا ہے جس سے حالات مزید کشیدہ ہوسکتے ہیں اور اگر وینزویلا کی فوج حالات کو قابو کرنے میں ناکام رہی تو ملک کو پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے .
ٹرمپ کے بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پومپیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کیوبا کے تعاون کو روکنے کے لیے اضافی اقدامات کیے ہیں اور اس حوالے سے مزید کام جاری رکھیں گے . سیکرٹری اسٹیٹ نے روس کو بھی صورتحال کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ہم اسی طرح کے اقدامات روس کے ساتھ بھی کریں گے . انہوں نے کہا کہ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس کو اس اقدام کی قیمت چکانی پڑے گی، اس لیے جو کچھ ہم کر سکتے ہیں اسی پر ہماری توجہ ہے کیونکہ وینزویلا کے منتخب صدر جووان گوئیڈو کو نظر انداز کیا جارہا ہے . گوئیڈو کی حمایت کا عزم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدورو ملک چھوڑ کر جانا چاہتے تھے لیکن انہیں روس اور کیوبا کی جانب سے روکا گیا . انہوں نے کہا کہ روس اور کیوبا کی جانب سے وینزویلا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے . دوسری جانب روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے مائیک پومپیو کی جانب سے وینزویلا کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے . روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سرگئی لاروف اور مائیک پومپیو کے درمیان فون پر رابطہ ہوا تھا جس کے لیے پہل امریکا کی جانب سے کی گئی تھی . دونوں راہنماﺅں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ گفتگو کا مرکز وینزویلا تھا جہاں ایک روز قبل حزب اختلاف کی جانب سے احتجاج کرکے حکومت کو گرانے کی باقاعدہ کوشش کی گئی تھی، جس کے لیے امریکا نے بھرپور معاونت کی تھی . روس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بیان میں کہا کہ ایک خود مختار ریاست کے اندرونی معاملات میں واشنگٹن کی مداخلت اور وہاں کی قیادت کو دھمکانا عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے . امریکا کو خبردار کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘جارحانہ اقدامات کے تسلسل کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں . خیال رہے کہ وینزویلا میں گوئیڈو کی حامیوں نے صدر مدورو کو ہٹا کر حکومت سنبھالنے کی ناکام کوشش کی تھی اور دوسرے روز بھی مظاہرین سڑکوں پر موجود ہیں جبکہ سرکاری سیکورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جارہا ہے . قبل ازیں امریکا نے وینزویلا کے صدر کو عہدے سے ہٹانے کی کوششیں تیز کرتے ہوئے ان کے وزیرخارجہ ہورے آریزا پر پابندی عائد کردی تھی اور ان کے امریکا میں تمام اثاثے بھی منجمد کردیے گئے تھے . بیان میں کہا گیا تھا کہ ’امریکا وینزویلا کے غیرقانونی صدر نیکولس مدورو کے ساتھ تعاون کرکے وینزویلا کے عوام ان کی دولت ان کے جمہوری حق اور ان کو انسانیت سے محروم ہوتا نہیں دیکھ سکتا.


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں