پولیس اور آج کے نوجوان کی خواہشات۔تحریر فیصل ذرگر

سنتے تھے کہ محکمہ پولیس کے پاس بڑے اختیارات ہوتے ہیں۔ کسی گناہگار کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہگار ثابت کرنے میں پولیس کے پاس کئی طریقے موجود ہوتے ہیں۔ اور پولیس یہ تمام طریقے اپنے ذاتی و مالی مفادات کیلئے استعمال کرتی ہے۔ حکومتی عہدیداروں و پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے تھانہ کلچر میں تبدیلی کے دعوے ہوتے رہے ہیں مگر عملی اقدامات نہیں کئے گئے جس وجہ سے آج بھی تھانوں میں پکڑ دھکڑ کے ذریعے عام شہریوں کی تذلیل کی جاتی ہے جبکہ جرائم پیشہ عناصر آزاد ہیں۔ علاقہ ایس ایچ او من مرضی کرتا ہے ڈھٹائی اور بے شرمی سے رشوت طلب کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس متبادل راستے موجود ہیں وہ کسی بھی شخص کو گرفتار کر کے کسی بھی مقدمہ میں ملوث کر سکتا ہے۔ اور خود کو بے قصور ثابت کروانے کے لیے الگ سے رشوت طلب کی جاتی ہے یا پھر مردہ بدست زندہ کے مصداق انہیں کے مرہون منّت رہنا ہوتا ہے۔گرفتار ملزمان سے چھینی گئی اشیاء ان کے پیسوں موبائل اور گاڑیوں کو اپنی پدری ملکیت سمجھ کر ان کو ذاتی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ چور ڈاکو لٹیرے اور منشیات فروش آزادی سے گھوم رہے ہوتے ہیں جبکہ عزت دار شہریوں پر مقدمات کا اندراج ہوتا رہتا ہے۔ اگر کبھی منشیات اور جوے کے اڈوں پر چھاپا مارا جاتا ہے تو اس کا مقصد صرف اپنا حصہ بڑھانا ہوتا ہے نا کہ منشیات کی روک تھام جس کا ثبوت ان اڈوں کا چند دن بعد ہی کھل جانا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب پولیس افسران کی تعیناتیوں میں بدانتظامی ہو گی اور میرٹ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا تو رزلٹ بھی ایسے ہی ملیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں لاقانونیت بڑھ گئی ہے۔ تھانیدار و اہلکارلوٹ مار میں مصروف ہیں۔ تھانوں میں ٹاؤٹ مافیا کا راج ہے۔ قبضہ گروپوں نے شہر میں پنجے گاڑ لئے ہیں اور پولیس کی ملی بھگت سے شہریوں کی جائیدادیں ہتھیائی جارہی ہیں جبکہ منشیات‘ بھتہ خوری‘ فحاشی‘ سود‘ جعلسازی اور فراڈ میں ملوث مافیا بھی پولیس کی سرپرستی سے بے لگام ہو گیا ہے۔ ڈکیتی و چوری میں اضافہ ہو گیا ہے۔ نئے ڈی آئی جی نصیر آباد شہاب الدین لہڑی اگر ان کرپٹ پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں تو جرائم کا تدارک ممکن ہو سکتا ہے۔۔۔تحریر فیصل ذرگر


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں