مولانا فضل الرحمان نے ممتازقادری اور آسیہ مسیح بارے عوامی اجتماع میں تلخ حقائق سےپردہ اٹھا دیا مکمل بیان

کراچی ملین مارچ سے قائد جمیعت کا خطاب تحریری شکل میں

اَلْحَمْدُلِلّٰہ. اَلْحَمْدُلِلّٰہِ وَکَفٰی وَسَلَامُُ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ الصْطَفٰی. لَا سِیَّمَا عَلٰی سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءْ وَعَلٰی اٰلِہِ وَصَحْبِہ وَمَنْ بِھَدْیِہِمُ اھْتَدٰی. اَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم.
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ, وَاَعَدَّلَہُمْ عَذَاباً مُّہِیْنًا, صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْم.

حضرات، قائدین متحدہ مجلس عمل، میرے شمع رسالت کے پروانوں ،نوجوانوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر جان کی قربانی دینے والوں، آپ نے آج اتنا عظیم الشان اور بے مثال مظاہرہ کرکے درحقیقت ایک سچے امتی کا ثبوت دیا ہے

اور آپ نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان میں ختم نبوت سے متعلق قانون کو توہین رسالت کے حوالے سے قانون کو تبدیل نہیں کرنے دیا جائے گا اور اگر حکمرانوں نے اس کی کوشش کی ان کو بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی

میرے محترم دوستوں! آپ نے دیکھا ، پچھلے جمعہ کو پورے ملک میں، تمام ملک کے ہر گوشے میں فرزندان اسلام نے سڑکوں پر آکر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپنی رائے دی ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف، جس پر ایک توہین رسالت کی مرتکب آسیہ کو بری کردیا گیا تھا اور اسکے خلاف عوامی عدالت نے فیصلہ دیا۔ پاکستان کی عوامی عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور کسی قیمت پر ہمیں ایسا فیصلہ قبول نہیں ہیں جو بین الاقوامی دباو میں کیا جائے گا۔

تعجب کی بات ہے کہ، پاکستان کے ہمارے مقتدر ادارے آج ہم پر تو حکومت کررہے ہیں لیکن بین الاقوامی قوتوں کے محکوم بن چکے ہیں ان کے فیصلے بتا رہے ہیں اگر ہمارے ملک میں ہمارے شہریوں کو کوئی قتل کرتا ہے ریمنڈ ڈیوس کی صورت میں اگلے دن پورے اعزاز کیساتھ امریکہ کے حوالے کردیا جاتا ہے

اگر ممتاز قادری کسی توہین رسالت کے مرتکب کو قتل کرتا ہے کسی کو قتل کرتا ہے تو پھر اس کو تو فوراً بین الاقوامی دباؤ کی بنیاد پر پھانسی دی جاتی ہے اگر آسیہ کو عدالتیں سزا دیتی ہیں تو بین الاقوامی دباؤ کی بنیاد پر اس کو بری کردیا جاتا ہے ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں۔

کہ یہ مسئلہ کسی عدالت کے قانون کے سہارے پر فیصلہ دینے کا نہیں ہے ہمارا احتجاج اس پر ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے پاکستان کی آزادی، پاکستان کی خود مختاری، اپنے اندرونی اقتدار اعلی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ہم حیران ہیں کہ ہم جب چودہ اگست کو آزادی کا جشن مناتے ہیں کیا واقعی ہم بحیثیت قوم کے آزاد قوم کہلانے کی حقدار بھی ہے یا نہیں ؟

ہم اپنی مقتدر قوتوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ امریکہ کی غلامی کرے تو پھر پاکستان کے آئینی منصب کو چھوڑ دے جاکر ٹرمپ کے گھر میں چاکری کرے۔ آپ کا مسئلہ ہے آپ کی وساطت سے قوم امریکہ کی غلامی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوسکتی۔

بقولقائدجمیعت

میرے محترم دوستوں! پاکستان کی نظریاتی شناخت ختم کردی گئی ہے پاکستان کو ایک سیکولر سٹیٹ بنایا جارہا ہے اور پاکستانی قوم اپنے ملک کو اسلام کی شناحت دینا چاہتی ہے۔

جنگ اس بات کی ہے ہم آج بھی اپنے وطن عزیز کی آزادی کی تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں ہم آج بھی کہتے ہیں کیا وجہ ہے؟ کہ امریکہ ہمارے اس فیصلے کو خراج تحسین پیش کرتا ہے ۔
کیا وجہ ہے؟ کہ ہمارے اس فیصلے کو کینیڈا کی گورنمنٹ وہ خراج تحسین پیش کررہی ہیں.
کیا وجہ ہے؟ کہ بیلجیم کا صدر آج ٹویٹ کررہا ہے اس فیصلے کو خراج تحسین پیش کررہا ہے۔
کیا وجہ ہے؟ کہ آج سٹی میں ایک. پوپ وہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے کو خراج تحسین پیش کررہا ہے

اور آسیہ کی بریت پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کررہا ہے یہ کیسی اسلامی جمہوریہ کی سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ جس سے امت مسلمہ تو مضطرب ہے لیکن عالم کفر اطمینان کا اظہار کررہا ہے۔

میرے محترم دوستوں! آپ دیکھ رہے ہیں ٹیلی ویژن کے اوپر بھی بڑے اہم لوگ یہاں تک کہ ریٹائرڈ لیفٹینیٹ جنرل وہ ٹی وی پر آکر لوگوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہیے۔
وہ لابی حرکت میں آگئی ہے پارلیمنٹ کے اندر پی ٹی آئی کے ممبران پارلیمنٹ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اسرائیل سے معاہدے کی باتیں کررہے ہیں

میرے محترم دوستوں! یہ جو ریاست مدینہ کی بات کی گئی قلعی کھل گئی۔ بے نقاب ہوگئی حکومت، جب ان کے لوگوں نے پارلیمنٹ میں کہا کہ جس طرح مدینہ میں رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں یہودیوں کے ساتھ معاہدے کیے ہمیں بھی اسرائیل سے معاہدے کر لینے چاہیے۔

یعنی میثاق مدینہ ان کی مثال ہے ان کو یہ نہیں معلوم کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ریاست مدینہ قائم کی، یہودیوں کو مدینہ سے نکالا، یہودیوں کو خیبر سے نکالا اور آپ ﷺ نے امت مسلمہ کو حکم دیا

یہودیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دو میرے آقا ﷺ نے تو یہودیوں کو جزیرہ عرب سے نکالنے کا حکم دیا تھا اور آپ ان کو واپس جزیرہ عرب میں واپس لانے کی بات کررہے ہیں

کہتے ہیں کہ عرب دنیا نے تو ان کو تسلیم کرلیا عرب کے حکمرانوں نے مانا ہوگا لیکن عرب کے عوام نے نہیں مانا۔
امت محمدی نے نہیں مانا امت مسلمہ نے نہیں مانا۔
اور آج بھی فلسطین کے اندر ،مصر کے اندر وہ تنظیمیں موجود ہیں اپنی آزادی و حریت کی بات کرتی ہیں امت مسلمہ کی موقف کی بات کرتی ہے۔

لہذا میں آج اس عظیم الشان اجتماع کی موجودگی میں عرب سربراہوں کی مختلف مملکتوں کے سربراہوں کے ان فیصلوں کو کہ جس کے تحت انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے ہم بھی ان کو مسترد کرتے ہیں اور پاکستان کے حکمران بھول جائے یہ بات کہ ہم زندہ رہیں گے اور پاکستان کے دفتروں پر اسرائیل کا پرچم لہرائے گا.

یہ ایک بہت بڑا خطرناک ایجنڈا لے کر آیا ہے میں دس، پندرہ سال سے آپ کو پکار رہا ہوں پوری قوم کو پکار رہا ہوں یہ یہودی ایجنٹ، یہ پاکستان پر اپنا یہودی ایجنڈا لے کر آئے ہیں آج ابھی تو قادیانیوں کے حوالے سے. . .

جب ان کی حکومت آتی ہے تو پاکستان کے اندر پوری دنیا میں اور آپ کراچی کے لوگ خود گواہ ہے کہ کس طرح کراچی کے اندر قادیانی نیٹ ورک متحرک ہوا ہے آپ کے آنے پر بغلیں بجائیں، آپ کے آنے پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ تائید اول تالیاں ہے کہ 1974 کی قادیانیوں کی غیر مسلم اقلیتی ترمیم ختم ہوسکے گی۔

پھر آپ نے انسداد توہین رسالت کے قانون پر حملہ کیا آپ پارلیمنٹ میں اس قانون میں ترمیم لائے تاکہ قانون غیر موثر ہوسکے اور جس طرح وہ قادیانیوں کا سربراہ کہتا ہے کہ جب تک پارلیمنٹ میں مولوی موجود ہے یہ والا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا

پارلیمنٹ میں مولوی موجود ہے تمھارا باپ بھی یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ پاکستان کے فیصلے میں ترمیم کرسکے

میرے محترم دوستوں! میں آپ کو واضح طور ہر کہنا چاہتا ہوں گرفتاریوں سے کچھ نہیں ہوگا گرفتاریاں یہ ہماری زندگی کا حصہ ہے جو جان کی قربانی دے سکتا ہے کچھ دن جیل کو بھی دے سکتا ہے ان گیدڑ بھبکیوں سے ہمیں آپ ڈرا نہیں سکتے ہم سر پر کفر بامدھ کر میدان میں نکلے ہیں۔

ہم آپ کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم نے آج یہاں پر مظاہرہ کیا ہے اور ان شاءاللہ پندرہ نومبر کو لاہور میں ملین مارچ ہوگا اور وہاں پر بھی پاکستان کی عوام سڑکوں پر آئی گی لیکن اس سے پہلے رات جو ان کو رہا کیا وہ خدا جانے، نہیں پتہ چلتا کہ وہ پاکستان میں ہے یا نہیں ،پتہ نہیں چلتا کس ملک کے حوالے کیا گیا لیکن میں واضح طور پر آج آپ کی تائید کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ کل بروز جمعہ، جمعہ کے نماز کے بعد پورے ملک کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹر میں اس قسم کے فیصلوں کے خلاف بھرپور مظاہرے کیے جائیں گے

اور اس کے بعد 25 نومبر کو ایک بہت بڑا عوامی مظاہرہ کیا جائے گا ختم نبوت کانفرس ہوگی, شہید اسلام کی یاد میں اور ان شاءاللہ., سندھ کے عوام اجتماعی طور پر میدان میں اتر کر یہ اعلان کررہے ہیں کہ یہودیوں کے ایجنٹوں ہم تمھارا ایجنڈا مکمل نہیں ہونے دیں گے تمھارے خواب شرمندے تعبیر نہیں ہونے دیں گے اور تمھیں اقتدار سے اترنا پڑے گا۔

کہتے ہیں کہ سیاسی مقاصد کیلئے استمال کرتے ہو بابا ہم نے تو اسلام اور سیاست میں کوئی فرق نہیں کیا تم کچھ سمجھتے ہوگے ان باتوں کو ہم واضح طور پر اپنی رائے رکھتے ہیں۔
مولانا سمیع الحق صاحب کو شہید کیا گیا اور ہم آج افسردہ ہے اس پر احتجاج کرتے ہیں مطالبہ کرتے ہیں کہ انکے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے

میرے محترم دوستوں! جو لوگ گرفتار ہوچکے ہیں اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کارکنوں کی گرفتاری سے اس تحریک کو دبا دیں گے تم جتنا یہ جذبہ دباؤ گے اتنا ابھر جائے گا اور ایف آئی آرے کاٹنے والوں! اگر تم نے آج ہمارے کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹیں گرفتاری کا عمل شروع کیا تو پھر یاد رکھو اتنا کرو کہ پھر بھگت بھی سکو

میرے محترم دوستوں! اس حوالے سے یہ کاروان چل پڑا ہے یہ کاروان منزل پر جاکے رکے گا اور ان شاءاللہ کوئی ہمارا کسی سے معاہدہ نہیں ہے کوئی ہمارے کسی سے مذاکرات نہیں ہے متحدہ مجلس عمل اس ساری صورتحال کی قیادت کررہی ہے۔
ان شاءاللہ یہ سفر جاری و ساری رہے گا اگر مزید مجلس عمل آپ کو لائحہ عمل دے گی ان شاءاللہ قوم اس لائحہ عمل کیساتھ اگلے اقدامات کرے گی اللہ آپ کی آمد کو اور آپ کے اس اجتماع کو قبول فرمائے اور اللہ آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے وآخر دعونا ان الحمداللہ رب العلمین. . . . .


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں