فرض اور دھرتی کاقرض ہر شخص نہیں سمجھتا پولیس کے بہادرآفیسرکی کہانی انوارالحق مغل کی ذبانی

تذکرہ ایک پولیس آفسر کا

راولپنڈی میں مختلف تھانوں میں ایس ایچ او کے فرائض سرانجام دینے والے دبنگ پولیس آفسر جنہوں نے کبھی سیاسی مداخلت برادشت نہ کی اور نہ کبھی اپنے حلقے میں جرائم پیشہ لوگوں کو پناہ دی، پنڈی کے نامی گرامی منشیات فروشوں کو نکیل ڈال کر انہیں قانون کی گرفت میں لانے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے، بڑے سے بڑے مغرور کو غلط کام پر ہتھکڑیوں میں جکڑنا بھی ان کی فرائض منصبی کا خاصہ رہا۔

مجھے یاد ہے جب وہ تھانہ رتہ امرال میں ایس ایچ او تعینات ہوئے تو پورے علاقے میں امن و امان کی کیفیت بحال ہو گئی تھی، پیٹرولنگ اور گشت کی وجہ سے علاقے کا چھوٹا بڑا ان کے نام سے واقف تھا، سماج دشمن ان کے ڈر سے چھپتے پھرتے تھے، تعیناتی کے دوران ان کی بہت سی خوبیاں بھی سامنے آئیں جن میں سرفہرست اور قابل تقلید بات یہ تھی کہ وہ اپنا کھانا بھی گھر سے ساتھ لایا کرتے تھے جس سے ان کی خودداری کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، ان کی دور تعیناتی کے دوران صرف ایک ماہ کی کارکردگی کچھ یوں تھی کہ ‘نومبر 2016 میں تھانہ رتہ امرال میں اسلحہ کی19،منشیات کی14 گیس ری فلنگ کے 6، پتنگ بازی کی2مقدمات درج کرنے کے علاوہ165افراد کیخلاف انسدادی کاروائی کی گئی ، 2ڈکیت گینگ گرفتار کرکے لاکھوں روپے مالیت کا سامان بر آمد کیا گیا 10 اشتہاری گرفتار کئے گئے’۔

اگست 2016 میں جب وہ تھانہ نیو ٹاؤن میں تعیات تھے تو یوم آزادی پر ون ویلنگ کے خلاف تھانہ نیو ٹاؤن پولیس نے کریک ڈاؤن کیا جس کے نتیجے میں کئی سیاسی شخصیات کے چشم و چراغ بھی اس گھناؤنے کھیل میں ملوث ہونے کی وجہ سے پولیس کے ہتھے چڑھ گئے جن کو چھڑانے واسطے پنڈی کی مشہور باثر شخصیت نے تھانہ نیو ٹاؤن پر دھاوا بول دیا اور قانون کو گھر کی لونڈی سمجھ کر اپنا آپ دکھانا چاہا لیکن وہ فرض شناس آفسر قانون کی بالادستی کی خاطر اپنی نوکری کی پرواہ کیے بغیر اس کے دو بدو ہوگیا اور کسی بھی قسم کی مداخلت کو جوتی کی نوک پر رکھ کر حقیقی طور پر قانون کا رکھوالا ہونے کا حق ادا کیا، جس کی پاداش میں انہیں جو. صعوبتیں برداشت کرنا پڑی یہ تفصیل پھر کبھی لیکن انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ فرض شناسی سے بڑھ کر کچھ بھی اہم نہیں ہوتا۔

اس دبنگ اور فرض شناس پولیس آفسر کو ناصرف راولپنڈی کی عوام بلکہ خود پولیس محکمہ چانڈیو کے نام سے جانتا ہے جن کا پورا نام غلام اصغر چانڈیو ہے جنہیں 8 مئی 2019 کو ڈی ایس پی رینک پر ترقی دے کر حضرو ضلع اٹک میں تعینات کر دیا گیا ہے جس پر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں، یقینا غلام اصغر چانڈیو جیسے آفیسر ہی قوموں کا سرمایہ اور ریاست کی پہچان ہوتے ہیں اگر ان جیسے افراد ہر ادارے کو میسر آ جائیں تو وہ دن دور نہیں جب سرکاری محکموں میں انقلاب بپا ہو جائے گا اور حقیقی معنوں میں محکمے قوم و ملک کی ترقی کیلئے کاربند ہو جائیں گے۔

تحریر
انوارالحق مغل
بیورو چیف راولپنڈی اہم نیوز نیٹورک
سیکرٹری انفارمیشن راولپنڈی کرائم کورٹ اینڈ سٹی جرنلسٹ ایسوسی ایشن


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں