پاکستان۔DG ISPR جنرل آصف غفور نے ایسا کیا کر دیا کہ پورے بھارت میں کہرام برپا ھوگیا

لاہور (اہم نیوز) بھارت میں کھلبلی مچ گئی، ڈی جی آئی ایس پی آر کے اعلان کو ایٹمی حملے کی دھمکی سمجھ بیٹھا، سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کا اجلاس بلانے کے اعلان نے بھارت کے اوسان خطا کر دیے ہیں، یہ اتھارٹی ایٹمی ہتھیاروں کے معاملات سے متعلق فیصلے کرتی ہے، تاہم پاکستان کی جانب سے ایسی کوئی واضح دھمکی نہیں گئی، بلکہ پاکستان افغانستان میں اور بھارت میں بھارتی دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس پر سینئر صحافی حامد میر کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔ حامد میر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ترجمان پاک فوج کی پریس کانفرنس کے بعد بھارت میں کھلبلی مچ گئی ہے۔

بھارت ڈی جی آئی ایس پی آر کے اعلان کو ایٹمی حملے کی دھمکی سمجھ بیٹھا ہے۔ جنرل آصف غفور کی جانب سے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کا اجلاس بلانے کے اعلان نے بھارت کے اوسان خطا کر دیے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی ایٹمی ہتھیاروں کے معاملات سے متعلق فیصلے کرتی ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے ایٹمی حملے کی کوئی واضح دھمکی نہیں گئی۔ بلکہ پاکستان جوابی کاروائی کے طور پرافغانستان میں اور بھارت میں بھارتی دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دوسری جانب بھارتی دراندازی کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ پاک بھارت کشیدگی پلوامہ واقعے سے شروع ہوئی۔
وزیراعظم ، وزیرخارجہ اور پھر میں نے بھی پریس بریفنگ میں بتایا کہ پلوامہ واقعے سے متعلق تفصیلاً بتایا ۔بے وقوف دوست سے عقلمند دشمن بہتر ہوتا ہے۔ دشمنی میں بھی بے وقوفی اور جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم نے کہا کہ آپ نے حملہ کیا تو ہم سوچیں گے نہیں جواب دیں گے۔ اس کے بعد میں نے بھی تین چیزیں کہیں تھیں۔21منٹس تک وہ پاکستان میں موجودگی کا دعویٰ کررہے ہیں۔ ترجمان پاک فوج نے خبردار کیا کہ اللہ پاک کی ذات سب سے بڑی ہے لیکن ہم ان کو کہتے ہیں کہ آئیں 21منٹس رہ کردکھائیں؟ انہوں نے کہا کہ ہماری پوری ایئرفورس ہروقت فضاء میں نہیں رہ سکتی۔
جنگ کی حالت میں زمینی ، فضائیہ اور بحری اپنے اپنے سیف گارڈزلیتی ہے۔ایئرفورس کی کشیدگی کے باعث معمول کی پٹرولنگ ہوتی رہی، کل رات بھی معمول کی پٹرولنگ جاری تھی۔ ریڈار سسٹم بھی ہمیں بتا رہا تھا کہ کس طرح وہ بارڈر کراس کرتے ہیں۔ پہلے بھی وہ بارڈر کے قریب آتے رہے ، لیکن اتنے نہیں آتے تھے کہ حدود کے اندر ہوں۔ سیالکوٹ اور لاہور سیکٹر میں خطرہ تھا، بہاولپور میں بھی خطرہ تھا۔ بھارت سیالکوٹ اور لاہور سیکٹر میں حملہ کرنا چاہتا تھا۔

ریڈار پربھارتی طیاروں کی پہلی پوزیشن لاہور سیالکوٹ سیکٹر کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھی گئی۔ ہمارے ریڈار سسٹم نے پک کیا کہ ان کے طیارے مظفرآباد سیکٹرمیں ہماری ایل او سی کوکراس کیا۔ وہاں پرجا کر ہماری ایئرفورس نے چیلنج کیا اور وہ واپس بھاگ گئے۔ بھارتی فضائیہ کی دراندازی سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔ جبہ کے مقام پربھارتی فضائیہ نے 4 بم پھینکے اور بھاگ گئے۔ اگر تو وہ اسٹرائیک کرتے تو پھر باقاعدہ لڑائی ہوتی۔
اگر ان کا ٹارگٹ ہمارے فوجیوں پر ہوتا تو فوجی یونیفارم میں ہوتے۔بھارت پاکستانی فوجی تنصیب پرحملہ کرنے کا فیصلہ کرتا تووہ ایل اوسی کراس کیےبغیرکرسکتا تھا۔ بھارت کا یہ مقصد نہیں تھا بلکہ ان کا ٹارگٹ ایسی جگہ تھی کہ سویلین آبادی پر اٹیک کرتے تاکہ وہ دعویٰ کر سکتے کہ ہم نے دہشتگردوں کو مارا ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے 350 دہشتگرد مارے ہیں لیکن ان کا خون کا کوئی ڈیڈ باڈی تو وہاں موجود ہوتی؟ اگرکوئی انفرااسٹرکچرتباہ ہوتا تووہاں ملبہ ہوتا۔

کوئی ایک اینٹ بھی نہیں ٹوٹی۔ جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔ جائے وقوعہ سب کیلئے کھلا ہے، وہاں جاکر تصدیق کی جاسکتی ہے۔ جھوٹ کے توکوئی پاؤں نہیں ہوتے۔ انہوں نے پہلے بھی اسٹرائیک کرکے جھوٹ بولا۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہم سوچیں گے نہیں جواب دیں گے۔ جبکہ میں نے کہا تھا کہ سرپرائز دیں گے۔ ہم انہیں سرپرائز دیں گے۔ ہم بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب ضرور دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایئرفورس کا پہلا کام حملے کو ناکام بنانا ہوتا ہے۔ ہماری ایئرفورس نے وہی کام کیا اور ان کے حملے کو ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ثابت کیا ہے کہ وہاں جمہوریت نہیں ہے۔ لیکں ہمارے ہاں جمہوریت ہے ہمارے یہاں اتفاق رائے ہے۔ بھارتی جارحیت کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں اور عوام متحد ہیں۔ ہم نے خطے میں امن کیلئے قربانیاں دیں ہیں


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں