پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین جی ابراہیم نے یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے کہ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے کچھ ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین جی ابراہیم نے یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے کہ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے کچھ ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر کیا جا رہا ہے۔

کراچی میں تعینات ایڈشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین جی ابراہیم نے صدر مملکت عارف علوی کو بھجوائے گئے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ ’کل پریس میں رپورٹ کیا گیا تھا کہ آپ نے ریفرنس جاری کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو ان ججوں کے خلاف بیرون ملک ایسے اثاثے رکھنے کے الزام میں تحقیق کرنے کا حکم دیا ہے جو انہوں نے سرکاری طور پر ظاہر نہیں کیے۔‘

زاہد فخرالدین جی ابراہیم نے اپنے استعفے میں ان ججز کے نام تو نہیں بتائے تاہم اُنھوں نے اس میں سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کا ذکر ضرور کیا ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’اس خبر کی تصدیق اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سے بھی ہو گئی ہے۔‘‘

زاہد فخرالدین جی ابراہیم کو حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے گذشتہ سال نومبر میں ایڈشنل اٹارنی جنرل تعینات کیا تھا اور وہ کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری برانچ میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔

زاہد فخرالدین جی ابراہیم صوبہ سندھ کے سابق گورنر اور سابق چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کے صاحبزادے ہیں۔

سنہ 2013 میں جب ملک میں عام انتخابات ہوئے تھے تو فخرالدین جی ابراہیم اس وقت چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر تعینات تھے۔ ان کے چیف الیکشن کمشنر بننے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی رضامندی بھی شامل تھی۔

تاہم جب ان انتخابات کے نتائج پاکستان تحریک انصاف کے حق میں نہیں آئے تو عمران خان نے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ فخرالدین جی ابراہیم کچھ عرصے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

زاہد فخرالدین جی ابراہیم کو حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے گذشتہ سال نومبر میں ایڈشنل اٹارنی جنرل تعینات کیا تھا

زاہد فخرا لدین جی ابراہیم نے اپنے استعفے میں سپریم کورٹ کے جج کا نام شامل نہیں کیا بلک نظر ثانی کی درخواست کا ذکر ہے اور اس کا نمبر دیا گیا ہے جو گزشتہ ماہ دائر کی گئی۔ انہوں نے لکھا کہ اس درخواست میں حکومت کی سپریم کورٹ کے ایک جج خلاف منفی رائے کھل کر سامنے آئی تھی جن کے خلاف مبینہ ریفرنس دائر کیا جا رہا ہے۔ یہ مقدمہ فیض آباد کے مقام پر ایک مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے دیے گئے دھرنے سے متعلق ہے۔

اس از خود نوٹس سے متعلق فیصلہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا تھا جس میں انھوں نے وزارت دفاع اور پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحتوں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی معاملات میں مداخلت کی ہے۔

اس فیصلے میں فوج کے ایک میجر جنرل رینک کے افسر کی طرف سے مظاہرین میں رقوم کی تقسیم کرنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

اس فیصلے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے جو نظرثانی کی پہلی اپیل دائر کی گئی تھی اس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم کچھ دیر کے بعد دوبارہ نظرثانی کی اپیل دائر ہوئی جس میں سپریم کورٹ کے جج کے خلاف لکھے گئے الفاظ حذف کر دیے گئے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف اور وزارت دفاع کی طرف سے دائر کی گئی نظرثانی کی اپیلیں ابھی سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئیں۔

زاہد ابراہیم نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ صدر مملکت کی طرف سے ان ججوں کے خلاف بھیجے گئے ریفرنس احتساب کے زمرے میں نہیں آتے بلکہ اس طرح کے اقدامات غیر جانبدار افراد کے تشخص کو مسخ کرنا اور ملک کی عدلیہ کی سرزنش کرنے کے مترادف ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے اس ادارے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا جو پاکستانیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا محافظ ہے۔

زاہد ایف ابراہیم سے جب رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کے عملے کا کہنا تھا کہ وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے گئے ہیں۔

اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے خلاف ان ریفرنس سے متعلق وزارت قانون اور ایوان صدر سے رابطہ کیا گیا تو کوئی بھی اس بارے میں ریکارڈ پر بات کرنے کو تیار نہیں تھا۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں