ریلوے کے حادثات کی اصل حقیقت ۔ معروف کالم نگار انشال راؤ کے انکشافات

آرزوئے سحر
تحریر: انشال راؤ
عنوان: ریلوے حادثات کے بڑے اسباب

وہ لوگ جو پہلے خود معاشرے کو گندہ کرتے ہیں اداروں میں کرپشن کی غلاظتین انڈیلتے ہیں پھر ان کے سیاہ کر توتوں کی وجہ سے جب کوئی ولہار ریلوے حادثے جیسا دلخراش سانحہ جنم لیتا ہے تو یہ سیاست چمکانے آجاتے ہیں ان سے خیرکی توقع کرنا بالکل”ایں خیال است ومحال است و جنوں” والی بات ہے اس سے بڑھ کر المیہ تاریخ انسانیت میں کیا ہو گا کہ ریلوے حادثے کےنتیجے میں خاندان کے خاندان اجڑ گئے ہزارواں افراد رنج والم کی کیفیت میں ہیں مگر اپوزیشن اسے موقع غنیمت سمجھ کر حکومت اور شیخ رشید پر زبان کی دھاریں تیز کر کے ٹوٹ پڑے ہیں تو دوسری طرف وزیر ریلوے اور اسکی نا اہل انتظامیہ اپنی مجرمانہ نااہلی اور بد عنوانی چھپانے کے لیے مزید کچھ گھر برباد کرنے کی ٹھان بیٹھے ہیں کچھ غریب چھوٹے ملازمین کو زمہ دار ٹھہرا کر ایک تو انکا معاشی قتل کیا جائیگا دوسرا انہیں جیل کی نذر کردیا جائیگا جس طرح سرحد حادثے میں بےقصور ASM اختیار سومرو جیل میں ہی دم توڑ گیا جبکہ اصل مجرمان بری الذمہ قرار دے دئیے گئے اصل حقائق عوام تک پہنچنے ہی نہیں دئیے جاتے، موجودہ حکومت میں پے درپے ریلوے حادثات پر سیاستدان سیاست چمکنانے میں مصروف ہیں جبکہ بدعنوان و نااہل ریلوے انتظامیہ حقائق چھپانے میں لگی ہے یہ مختصر کالم جزئیات وتفصیل کا احاطہ تو نہیں کر سکتا لیکن مختصراً چند اہم ترین باتوں کی طرف توجہ دلانہ ضروری ہے ولہار ریلوے حادثے پر وزیر ریل وانتظامیاں نے موقف دیتے ہوئے بتایا کہ غلط کانٹا بدلنے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا ٹریک کو اوورہالنگ کی ضرورت ہے سگنل کا نظام پرانا ہے اسٹیشن اسٹاف کی غلطی سے حادثہ ہوا جوکہ حقائق کے منافی ہے جس جگہ حادثہ ہوا ہے وہاں تو ریلے انٹرلاک سسٹم ہے جو پینل سے آپریٹ ہوتا ہے جس لائن پر گاڑی آجائے تو اس لائن پر کوئی چاہ کر بھی دوسری گاڑی کو نہیں لے سکتا جیسا کہ حادثہ لوپ لائن پر ہوا ہے اگر لوپ لائن پر گاڑی کے سگنل دئیے بھی جائیں تو ییلو سگنل آئیں گے جس کے لیے مختص رفتار 10 سے 15 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے رہی بات کوتاہی کی تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ ڈرائیور اوور شوٹ ہوا مگر اس کے اوور شوٹ ہونے کی کیا وجہ تھی یہ اہم سوال ہے کہ آیا ڈرائیور سوگیا تھا یا پھر بریک فیل ہوے یا پھر سگنل خراب تھے اس سے پہلے بھی کچھ مال گاڑیاں اور جناح ایکسپریس اسی قسم کے حادثات کا شکار ہوئیں جوکہ اوور شوٹ ہی کی وجہ سے ہوے، پے در پے اوور شوٹ کے واقعات سے کسی اندرونی مخفی ہاتھ کے شامل ہونے کے امکانات بھی پیدا ہوجاتے ہیں کیونکہ انجن میں ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور دو افراد ہوتے ہیں اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں سب سے پہلے انہیں ہی مرنا ہےڈرائیور بلاک سیکشن میں ریلوے آپریٹنگ مینول کے تحت GR-6 پر عمل کرنے کا پابند ہے جس کے تحت انہیں محتاط اور چوکنا رہنا ہے اور سب ہی ڈرائیور GR-6 کو فالو کرتے ہیں اس لیے اتنے بڑے پیمانے پر اوور شوٹ ہوجانا سمجھ سے بالاتر ہے ویسے ایک بات ضرور ہے کہ ڈرائیور صاحبان کی بڑی تعداد نشے کی عادی ہے۔ یاد رہے غلام احمد بلور کے دور میں انجنوں سے موٹریں نکال لی جاتی تھیں یا پھر موٹروں کے لیے ناقص آئل استعمال کیا جارہا تھا جس کی وجہ سے ایک ایک دن میں کئی کئی انجن فیل ہوتے تھے دوسری بات اوور ہالنگ کی تو شیخ رشید صاحب کتنی بار اوور ہالنگ کروگے انگریز سرکار نے تو 1860 کی دہائی میں ٹریک بنایا تھا جو آج تک بھی چل رہا ہے جبکہ ریلوے انتظامیہ اس ٹریک خصوصاً کراچی تا لاہور کو متعدد بار بناچکی ہے جس میں اربوں روپے جھونکے جاچکے ہیں محصول پھر وہی رونا کہ ٹریک اوورہالنگ کی ضرورت ہے ہر ریلوے حادثے کے بعد حکومت سے اسپیشل فنڈز کے مطالبے سے شک یقین میں بدل جاتا ہے گویا اس طرح کے حادثات کروا کر بڑا پیکیج لیا جائے اور خوب مال بنایا جائے، اس قسم کے حادثات کی ایک اہم وجہ ریلوے افسران کی کرپشن اور ملازمین پر ساتھ سنگین ترین ظلم بھی ہے جس اسٹیشن پر حادثہ ہوا اس پورے سیکشن بلکہ پورے پاکستان میں ہی اسٹیشن ماسٹر و کلاس فور اسٹاف کی کمی پیدا کرکے جبراً 12 سے 16 گھنٹے ڈیوٹی لی جارہی ہے کوئی ہفتہ وار ریسٹ نہیں یہاں تک کہ 20 CL بھی یہ ملازمین پوری حاصل نہیں کرپاتے جن کے ہاتھوں میں ہزاروں افراد کی جان ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان کو کوئی سہولت نہیں، نہ تو کھانے پینے کی نہ ہی رہنے کی ایسے میں یہ ملازمین ذہنی طور پر اتنے ڈسٹرب رہتے ہیں جس کا اندازہ ان کے چڑچڑے پن سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اسٹیشن ماسٹر کیٹیگری اکثر و بیشتر عوام سے الجھ جاتی ہے ان ملازمین کے ساتھ سلوک دیکھ کر شکاگو کی کہانیاں ماند پڑجاتی ہیں اس حد تک ظلم ہے کہ اگر کوئی اسٹیشن ماسٹر یا کانٹے والا بیمار ہوجائے تو وہ چھٹی نہیں کرسکتا اسے چیک اپ کے لیے بھی صرف ریلوے کے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے جو ڈاکٹر کم اور افسر زیادہ بن کر دکھاتا ہے اور افسران بالا ان ملازمین پہ مزید ذہنی ٹارچر کیے رکھتے ہیں، افسران کے محبوب ترین ملازمین میں کنڈکٹر گارڈ، ایس ٹی ای، بکنگ کلرک ریزرویشن و پارسل کلرک ہیں جو ان کو مسافروں سے مال بٹور کر خوش کیے رکھتے ہیں پہلے یہ ملازمین اسٹیشن ماسٹر کے ماتحت ہوا کرتے تھے مگر آہستہ آہستہ بدعنوان افسران اسٹیشن ماسٹر کے اختیارات ختم کرتے گئے ریلوے تباہ ہوتی گئی اور مشرف دور میں تو حد ہی ہوگئی شیخ رشید صاحب ہی کے ہوتے ہوے بدعنوان افسران نے اسٹیشن ماسٹروں کے تمام اختیارات ختم کردئیے مزید یہ کہ گارڈ و STE حضرات کو انچارج اسٹیشن ماسٹر سے زیادہ اسکیل دے دئیے، موصوف وزیر کو 225 کوچز کی اشد ضرورت ہے جبکہ اس سے پہلے قراقرم ایکسپریس کا ریک باہر سے منگوایا گیا تھا باقی تمام کوچز کیرج فیکٹری سے بنائے گئے تھے تو اب وہ پراڈکشن بند کیوں؟ ٹیکنالوجی مشینری عملہ تو ہمارے پاس موجود ہے پھر بھی یہ بات کرنا کیا بدنیتی نہیں؟ وزیراعظم صاحب خدارا کرپشن کو روکنے کے اقدامات کیجئے صرف ایک بار باہر کی ٹیموں سے آڈٹ اور تحقیقات کروالیجئے آپ کو لگ پتہ جائیگا کہ کیسے ستر کی دہائی میں خریدے گئے 47 والے انجن اب تک رواں دواں ہیں اور سن 2002 کے بعد لیے گئے انجن دو تین سال بعد ہی بیٹھ جاتے ہیں، کس طرح ریلوے انجینئرنگ بالخصوص ٹریک کا محکمہ ریلوے کو سفید ہاتھی بنائے ہوے ہے خدارا اسٹیشن ماسٹر کو امپاور کریں تمام پرانے اختیارات بحال کریں اس کے علاوہ اسٹیشن کی اشیاء ضرورت کے لیے بجائے افسران خریداری کریں براہ راست اسٹیشن ماسٹر کو پیسے دئیے جائیں جسکی آڈٹ کی جائے تو خطیر سرمایہ بچ سکتا ہے اور اسٹیشن ماسٹر، پوائنٹس مین، ڈرائیور کیٹیگری کے لیے ڈیوٹی ٹائمنگ و دیگر سہولیات مہیا کریں تاکہ عوام کی جانیں رسک پہ نہ رہیں۔

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں