کون مودی کا حقیقی یار۔کشمیری اپنا لہو کس کے ہاتھ پر تلاش کریں۔قسط نمبر ایک

عالمی حالات کسی بھی طرح مسلمانوں کے حق میں نہیں ۔ شام عراق لیبیا یمن افغانستان فلسطین کشمیر میں دجال کے پیروکار ایسے ایسے ظلم نہتے عوام پر ڈھا رہے ہیں جو قابل تحریر نہیں۔مسلمان عربی ہوں یا عجمی ظالموں اور اہل کفر کے نشانہ پر ہیں عالم اسلام میں ایک بھی لیڈر ایسا نہیں جس پر تمام عالم اسلام کی ریاستوں کو اعتماد ہو۔جبکہ حیران کن طور پر اکثر مسلمان ریاستیں امریکہ کی نام نہاد اتحادی ہیں ۔ نام نہاد اتحادی اس لیے تحریر کیا کہ امریکہ ہر ریاست سے اپنی مرضی کے نتائج لیتا ہے ۔اس ملک کی عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے یا آرمی تباہ و برباد ہو اس عمل سے امریکی سرکار کو کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔اتحادی کا مطلب نفع نقصان برابر ہوتا ہے جبکہ امریکہ صرف نفع کا دعویدار ہوتا ہے نقصان اتحادیوں کا حصہ ہوتا ہے ۔ اصل مسلہ کی طرف آتے ہیں ۔ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کو عالم اسلام مسلمانوں کا قاتل اور گجرات کے قصائی کے نام سے جانتی ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مودی انڈیا میں سکھوں کریسچنز سمیت کیس بھی اقلیت کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔اسکی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ مودی حکومت میں آیا تو پاکستان میں میاں محمد نوازشریف وزیراعظم تھے مودی پاکستان آیا میاں محمد نوازشریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کی اسکے بعد جندال نامی کاروباری شخصیت پاکستان آئی خفیہ یا اعلانیہ جو ہوا سب کے سامنے ہے بیک ڈور ڈپلومیسی ریاستوں کو قریب لانے میں ہمیشہ کارآمد ثابت ہوتی ہے مگر دونوں ممالک کے کچھ حلقوں نے اس عمل پر سخت تنقید کی اور ناگواری کا اظہار کیا ۔ یہاں تک کہ میاں محمد نوازشریف کو مودی کا یار قرار دے کر غدار وطن کا فتوی بھی جاری کر دیا گیا ۔اس کے بعد ملک پاکستان میں PTI کی حکومت آتی ہے میاں محمد نوازشریف کو غدار اور کرپٹ کہنے والے نریندر مودی سے رابطے کا ہر طریقہ آزاماتے ہیں دوسری طرف سے واضع طور پر انکار کی پالیسی جاری رہتی ہے۔اسی دوران انڈیا میں الیکشن کا عمل شروع ہو جاتا ہے پاکستان کا وزیراعظم اس بات سے قطعہ نظر کر مودی کا الیکشن منشور کیا ہے مودی کی جیت کی اعلانیہ خواہش کا اظہار کر دیتا ہے وزیراعظم صاحب یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ انکے بقول جو مودی کا یار ہے وہ وطن کا غدار ہے ۔ مودی دوبارہ وزیراعظم بن گیا وزیراعظم پاکستان کی خواہش اللہ تعالی نے پوری کر دی۔نریندر مودی نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنے منشور پر عملدرآمد شروع کردیا جبکہ ہم لاعلم تھے یا دانشتہ مجرمانہ غفلت کا شکار ہوئے حیران کن طور پر مدینہ کی ریاست بنانے کے دعویداروں نے اس موقع پر بھی ریاست مدینہ کے عمل کو نہ اپنایا۔ کشمیر میں مسلمانوں پر اہل کفر نے ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے اور کلمہ کے نام پر بننے والی ریاست اور مدینہ کی ریاست بنانے کا دعویدار دو دن بعد اپوزیشن لیڈر سےطنزیہ پوچھ رہا تھا کہ کیا میں انڈیا پر حملہ کر دوں ۔ کیا یہ طرزعمل مدینہ کی ریاست کے والی کا ہو سکتا ہے؟ کیا ٹیپو سلطان کا پیروکار کیا ڈونلڈ ٹریمپ کی ثالثی پر شادیانے بجاتا۔ ؟ابھیندن پاکستان پر حملہ آوور ہوا گرفتار ہوا اسکی فوری واپسی بھی میاں محمدنوازشریف کےیار مودی کی الیکشن کمپئن میں کام آئی۔دنیاں کا اصول ہے ثالث اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ فریقین سے اپنی بات منوا سکے اور اسکی غیرجانبداری ثابت شدہ ہو ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور فلسطین کے معاملہ میں جو کردار ادا کیا اور جوکچھ عالمی میڈیا امریکی صدر بارے کہہ چکا ہے ہماری آنکھیں کھولنےکے لیے کافی ہے ۔ غیر سنجیدہ اور تعصبی شخص کیسے عالمی تنازعات میں انصاف پر مبنی فصلے کر سکتا ہے؟اس بات کے قطعہ نظر کہ کشمیر کے مسلہ پر عالم کفر ایک پیج پر ہے مسلم ممالک کی مجرمانہ خاموشی بھی قابل مذمت ہے۔شائد اسکی وجہ ہمارے ملک کے اندرونی حالات ہیں جہاں اسمبلی کے اندر اور باہر قوانین بنانے والے ایک دوسرے کو غدار ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔نریندر مودی میاں محمد نوازشریف کے گھر آیا اور وزیراعظم عمران خان نے ابھینندن کو رہا کرکے مودی کی جیت کی اعلانیہ خواہش کا اظہار کیا ۔ اب درندہ صفت مودی بےلگام ہوکر کشمیری مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا ہے کشمیری اپنا لہو کس کے ہاتھ پر تلاش کریں ۔۔۔پہلا حصہ ۔(تحریر۔چوہدری محمداشرف نوید)وٹس ایپ نمبر۔03458410313


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں