بھارتی فوج کی 21 سکھ ریجمنٹ نے پاکستان کیخلاف کسی بھی جارحیت کا حصہ بننے سے انکار کردیا،

(اہم نیوز) بھارتی فوج کی 21 سکھ ریجمنٹ نے پاکستان کیخلاف کسی بھی جارحیت کا حصہ بننے سے انکار کردیا، اس سے قبل عالمی سکھ پارلیمنٹ نے بھارتی سکھوں کو ہدایت کی تھی کہ پاکستان کیخلاف کسی بھی قسم کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیئے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج میں بہت بڑی بغاوت ہوئی ہے۔ بھارتی میڈیا کے کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بھارتی فوج کی 21 سکھ ریجمنٹ نے پاکستان کیخلاف کسی بھی جارحیت کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔

بھارتی فوج کی 21 سکھ ریجمنٹ میں شامل سکھوں نے پاکستان کیخلاف جنگ نہ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی فوج کی 21 سکھ ریجمنٹ کے اس فیصلے کو بھارتی فوج کی تاریخ کی سب سے بری اندرونی بغاوت بھی کہا جا رہا ہے۔
اس سے قبل برطانیہ میں قائم سکھوں کی عالمی پارلیمنٹ کی جانب سے پاک بھارت کشیدہ حالات کے تناظر میں خصوصی اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔

سکھوں کی عالمی پارلیمنٹ نے بھارت میں مقیم سکھوں کو پاکستان کیخلاف کسی بھی حملے کا حصہ نہ بننے کی تلقین کی تھی۔ سکھوں کی عالمی پارلیمنٹ نے بھارت کی فوج میں موجود سکھ فوجیوں کو بھی بغاوت کرنے کی تلقین کی۔ سکھوں کی عالمی پارلیمنٹ کے رکن رہنماوں کا کہنا تھا کہ بھارت کی ہندو شدت پسند مودی سرکار کی پاکستان کیخلاف جنگ بھارت دیس کی نہیں شدت پسند ہندو ذہیت کی جنگ ہے۔

مودی سرکار پاکستان کیخلاف جنگ چھیڑ کر برصغیر پر شدت پسند ہندو ذہنیت کا راج چاہتی ہے۔ اس لیے بھارت میں مقیم اور بھارتی فوج میں موجود سکھوں کو کسی صورت پاکستان کیخلاف جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیئے۔ اس جنگ کا سکھوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ سکھوں کی عالمی پارلیمنٹ نے جہاں مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، وہیں وزیراعظم عمران خان کی بھرپور تعریف کی ہے۔

سکھ رہنماوں کا کہنا ہے کہ بھارتی پائلٹ کو فوری رہا کرکے عمران خان نے بڑے لیڈر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان امن کے قیام کیلئے عمران خان کی کوششوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ دوسری جانب بیرون ملک مقیم سکھ برادری کی جانب سے کُھلم کُھلا پاکستان کی حمایت کا اعلان کرنے کے بعد اب مودی سرکار نے خوف میں مبتلا ہو کر اہم جگہوں پر تعینات سکھ پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا ہے۔

قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق بھارتی پنجاب میں تمام سرحدی علاقوں، اہم سرکاری دفاتر ، فوجی چھاؤنیوں کے باہر ناکوں پر تعینات سکھ پولیس اہلکاروں کو ہٹا کر ہندؤوں کو تعینات کردیا گیا ہے ۔ اور اس حوالے سے باقاعدہ احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ سکھ پولیس اہلکار کشمیری مجاہدین ، حریت پسندوں اور بھارت مخالف قوتوں کا ساتھ دے سکتے ہیں لہٰذا انہیں ڈیوٹی سے ہٹا دیا جائے۔

ذرائع کے مطابق ان حکامات کے بعد نوے فیصد ناکوں سے نہ صرف سکھ پولیس اہلکاروں کو ہٹا دیا گیا بلکہ کئی اعلٰی سکھ افسران کی باقاعدہ خفیہ نگرانی کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے ۔ بھارتی پنجاب میں ایک لاکھ 52 ہزار ایسے ٹیلی فون نمبر جو سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کے ہیں، ان کی ریکارڈنگ بھی شروع کر دی گئی ہے جبکہ بھارتی پنجاب کے اندر اہم ترین اداروں میں تعینات سکھ افسران اور عملہ کو نہ صرف باقاعدہ چیک کیا جا رہاہے بلکہ فوج سمیت اہم ترین بھارتی عہدیداران کی سکیورٹی پر تعینات سکھ اہلکاروں کو ہٹا دیا گیا ہے ۔

بھارتی پنجاب اور دیگر صوبوں میں سکھ کمیونٹی کے اہم لیڈروں نے اس پر کھل کر بولنا شروع کر دیا ہے ۔ خوف زدہ مودی سرکار نے بھارتی پنجاب میں سکھ کمیونٹی کے دو ٹی وی چینلز بھی بند کر وا دئے ہیں جبکہ مودی سرکار کے ان اقدامات کے خلاف بولنے اور سوشل میڈیا پر شور ڈالنے پر113سکھ طالبات اور 224 دیگر افراد کو بھی ان کے حساس اداروں نے حراست میں لے کر ان سے تحقیقات کر رہے ہیں ۔

ذرائع نے بتایا کہ مودی سرکار کی سکھ دشمن پالیسیوں پر بھارتی پنجاب میں کشمیر سے بڑی تحریک کسی وقت بھی شروع ہو سکتی ہے ۔یاد رہے کہ پاک بھارت کشیدگی میں غیر ملکی سکھ کمیونٹی نے کھُل کر پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ میں مقیم سکھ وکیلوں کے ایک گروہ نے بھارت کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کی۔ سکھ کمیونٹی کا کہنا تھا کہ بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے سکھ برادری پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں