کشمیر فلسطین اور مسلم امہ کا کردار ۔ ہمارا ماضی ۔تحریر چوہدری محمد اشرف نوید

درد دل (قسط نمبر 2) تحریر چوہدری محمد اشرف نوید
ہم نے چند دن قبل ایک کالم کشمیر کے موضوع پر تحریر کیا تھا ۔اسکی دوسری قسط حاضرخدمت ہے ۔ جب اللہ تعالی کے آخری نبی نے مدینہ کی ریاست کی بنیاد رکھی تھی تو طرزحکومت بھی بتا دیا تھا اللہ کے نبی نے دنیا کے بڑے طاقتور حکمرانوں کو خطوط لکھے اور جہاں سے جنگ کے خطرہ کو بھانپا اپنے پر حملہ کا انتظار نہ کیا بلکہ لشکر کو اس خطرہ کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا سب جانتے ہیں اس وقت مدینہ کی ریاست عسکری و مالی لحاظ سے بہت کمزور تھے مگر ایمان کا جذبہ اور شوق شہادت لئے مسلمانوں نے ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیئے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے جنگ موتہ میں جن واقعات نے جنم لیا وہ انسانی عقل کی سمجھ سے بالا تر ہیں مسلمانوں کی تعداد تین ہزار(بحوالہ ذادالمعاد-فتح الباری • بحوالہ الرحیق المختوم صفحہ 526)تھی کفار کی تعداد ایک لاکھ تھی آج کے عقلمند اسکو مسلمانوں کی خودکشی اور جذباتی فیصلہ قرار دیتے مگر اللہ تعالی کے آخری نبی نے لشکر کا جس کو جرنیل بنایا اس نےعین جنگ سے قبل اور میدان کارزار میں اپنے مجاہدین کو کس طرح مخاطب کیا وہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے (تم لوگ شہادت کی جستجو میں نکلے ہو ۔ کفار سے ہم گنتی یعنی اعداد و شمار اور قوت کے ذریعہ نہیں لڑتے۔بلکہ ہم دین کے لیے لڑتے ہیں جس سے اللہ تعالی نے ہم کو مشرف کیا ہے ۔ پس مقام موتہ اور ہرقل کے لشکر کی طرف پیش قدمی کرو اپنے لشکر کا میمنہ اور میسرہ درست کر کے کفار کا مقابلہ کرو اس کا نتیجہ ان دو نیکیوں سے خالی نہ ہوگا یا تو ہم کو فتح حاصل ہو گی یا شہادت میسر ہو گی): اس جنگ کے حالات اللہ تعالی نے(live) اپنے نبی کو دکھا رہا تھا نبی آخرزماں نے اپنے لشکر کے جرنیلوں کو یکے بعد دیگرے شہید ہوتے دیکھا اور پھر جب علم جہاد سیدنا حضرت خالدا بن ولید کے ہاتھ میں آیا تو اللہ تعالی کے نبی نے فرمایا (ان تینوں کے بعد اسلامی جھنڈے کو سیف من سیوف اللہ یعنی سیدنا حضرت خالد ابن ولید نے لیا اور لڑائی کی بگڑی ہوئی حالت کو سنبھالا۔بحوالہ صحیح بخاری کتاب المغازی حدیث4262) اس جنگ میں سیدنا حضرت خالد ابن ولید کے ہاتھوں دوران جنگ 9 تلواریں ٹوٹیں تھیں۔ مسلمانوں کے لشکر دنیا کے طول و عرض میں گئے اور ایسی ایسی فتوحات حاصل کیں جن کو انسانی عقل صرف سوچ سکتی ہے ۔ آج دنیا کے جس حصہ پر پاکستان کھڑا ہے اسکے ایک حصہ پر راجہ داہر حکمران تھا اسکی راج دہانی میں مسلمان کا مسافر جہاز لنگر انداز ہوا جن کو لوٹ لیا گیا خواتین و متاثرین نے خلیفہ وقت اور حجاج بن یوسف کو امداد کے لئے پکارہ۔حجاج بن یوسف نے ایک قاصد کو راجہ داہر کے پاس بھیجا اور لٹیروں کو مال سمیت حوالگی کا مطالبہ کیا انکار کی صورت میں ایک لشکر سندھ کی جانب روانہ کیا گیا جسے کامیابی نہ ملی دوسرے لشکر کو بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی آخرکار حجاج بن یوسف نے اپنے قریبی عزیز محمد بن قاسم کو 6000 کا لشکر دیکر سندھ روانہ کیا جس نے ناصرف راجہ داہر کو سبق سکھایا بلکہ اسی بدولت آج برصغیر میں کروڑوں مسلمان آباد ہیں: اب ہم کشمیر اور فلسطین کا بغور جائزہ لیں تو ہمیں دور دور تک ریاست مدینہ کا ایک بھی صحیح اور سچا پیروکار حکمران نظر نہیں آتا ۔ آج مسلمان مظلوم ہوتے ہوئے بھی دہشت گرد کہلانے پر مجبور ہے روزانہ لاتعداد خواتین کی عزتیں تار تار ہو رہی ہیں مسلمالون کو بزور طاقت مذہہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے مسلمانوں کو جمہوریت کا لالی پاپ دے کر غلامی کی ذندگی بسر کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے مسلمان آج نہ معاشی طور پر کمزور ہے اور نہ ہی عسکری سطح پر بےبس ہے جس چیز کی کمی ہے وہ جذبہ ایمانی ہے (جاری ھے)۔
www.ahemnewshd.com 00923157503595

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں