کشمیریوں پر بھارت کے مظالم عرب دنیا کی خاموشی کسی شازش کا نتیجہ تو نہیں۔؟پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے بارے نئی بحث نے جنم لے لیا

متحدہ عرب امارت نےمودی کو ایوارڈ کیا دیا پاکستان کے چند نامور صحافیوں نے نیا شوشا چھوڑدیا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ کسی نے کہا جب سب اپنا اپنا سوچ رہے ہیں تو ہم بھی اپنا اپنا سوچیں۔

بظاہر اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے سینئر صحافی کامران خان نے سب سے پہلے ٹوئٹر پر یہ شوشا چھوڑا۔
کامران خان نے لکھا کہ40 سال سےاسرائیل چاہتا ہےپاکستان سےسفارتی تعلقات قائم ہوں یااتناتعلق توہو جتنااسکاکئی مسلم ملکوں سے ہے۔ہم انکاری رہے برادرممالک برا نہ منائیں حتیٰ کہ یہ دوست خود اسرائیل سے جڑگئے بلکہ مودی جیسےپاکستان دشمن کوبھائی بنا لیا وقت ہے پاکستان اپنے مفاد میں فوری فیصلہ کرے۔
40 سال سے اسرائیل چاہتا ہے پاکستان سے سفارتی تعلقات قائم ہوں یا اتنا تعلق تو ہو جتنا اس کا کئی مسلم ملکوں سے ہے ہمُ انکاری رہے برادر ممالک برا نہ منائیں حتی کہ یہ دوست خود اسرائیل سے جڑ گئے بلکہ مودی جیسے پاکستان دشمن کو بھائی بنا لیا وقت ہے پاکستان اپنے مفاد میں فوری فیصلہ کرے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کامران خان نےایسے وقت میں جب مسئلہ کشمیر اپنی سنگینی کی انتہاء پر ہے انہیں یہ ٹویٹ کرنے کی کیوں  ضرورت پیش آئی۔  بات یہیں ختم نہیں ہوتی ایک اور معروف اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو میں اسی موضوع پر ایک کالم لکھ دیا۔ جس میں انہوں نے اسرائیل سے تعلقات کے معاملے پر اپنے خیالات پیش کیے۔

عاصمہ شیرازی  نے خورشید قصوری کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کےمختلف ادوار میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات رہے ہیں۔
مشرف دور میں وزیر خارجہ رہنے والے خورشید قصوری کے مطابق ترکی نے پاکستان اور اسرائیل کی خفیہ ملاقات کے لئے موقع اور جگہ فراہم کی۔ اس سے قبل جنرل ضیاالحق کے دور میں پاکستان اور اسرائیل کے مابین انٹیلی جنس تعاون بھی قائم رہا ہے۔

تاہم عاصمہ شیرازی نے بحث کو اس نقطے پر چھوڑا کہ کیا اسرائیل کو تسلیم کرلینے سے ہم اس کے ساتھ برابری کے تعلقات قائم کرسکتے ہیں؟ تعلقات لے دے کی بنیاد پر ہوتے ہیں، ہمارے پاس ایسا کیا ہے جو ہم باہمی تعلقات کے عوض اسرائیل کو دے سکیں؟

ایک اور برطانوی جریدے انڈپینڈنٹ اردو نے بھی اس بحث کو مختلف متعلقہ افراد کے خیالات کی روشنی میں پیش کیا۔

صحافی مونا خان نے اپنی تحریر میں پاکستان اور اسرائیل میں پائے جانے والی مماثلوں پر بحث کی ہے۔

مضمون میں سابق سفیر عبدالباسط نے اس بحث کو مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سےبات کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ ہر چیز کا مناسب وقت ہوتا ہے اور ابھی اسرائیل سے تعلق قائم کرنے کا مناسب وقت بالکل بھی نہیں ہے۔ ‘اس وقت اگر اسرائیل سے تعلق قائم کیا گیا تواس سےیہ پیغام جائے گا کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات اور بھارت کے تعلقات کے ردعمل میں یہ قدم اُٹھایا ہے۔’

انہوں نے مزیدکہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں عوامی رائے اور ردعمل کی بہت اہمیت ہے۔ سنہ 2005 میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے بھی پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس موقعے پر اسرائیل کے پاکستان سے تعلقات پر بحث کرنے سے کشمیر کا معاملہ پس پردہ چلا جائے گا۔ تمام فوکس اس وقت کشمیر ہے اور اسی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ابھی اس موقعے پر ایسا کچھ سوچا جا رہا ہے۔

ماہرِ پالیسی امور برائے خلیجی ممالک منصور جعفر نے انڈپینڈنٹ  اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اگر اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے فلسطینی زمین پر اس کا قبضہ بھی تسلیم کر لیا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ ‘ایسی صورت میں کشمیر پر پاکستان کا موقف کمزور ہو جائے گا’۔

بین الاقوامی امور کے ماہر سلمان بٹیانی  نے گفتگو میں کہا خارجہ پالیسی جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قومی مفاد کی خاطر بنانی چاہیئے۔ بھارت نے پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہونے کا بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ اگر اسرائیل پاکستان سے تعلقات قائم کرتا ہے تو اسے جنوبی ایشیاء کی سیاست میں توازن رکھنا پڑے گا۔

سفارتی تجزیہ کار قمر چیمہ نے کہا کہ زیادہ تر اسلامی ریاستیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہوئے ہیں توپاکستان کو کیامسئلہ ہے؟ اگرپاکستان کی سیاسی قیادت اور عوام بھی اس بات کو بہتر سمجھتی ہے تو تعلق قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک اسرائیل تعلق قائم ہونے سے پاکستان کا ترقی پسند ہونے کا تاثر ابھرے گا۔

انہوں نے مزید کہاپاکستان اسرائیل تعلق قائم ہونے کا صرف اندرونی نقصان ہے۔  ‘عوام میں حکومت کی مقبولیت میں کمی ہو سکتی ہے اور عوام کا دباؤ بڑھ سکتا ہے جو کہ ملک میں انتشار پیدا کر سکتا ہے’۔

واضح رہے 1947 میں اسرائیل کےبانی ڈیوڈبن گریون نےقائداعظم محمد علی جناح کواسرائیل کےساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنےسےمتعلق ٹیلی گرام بھیجا تو انہوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ ان کے اس رویے سے یہ اخذ کیا گیا کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلق قائم نہیں کرنا چاہتا۔

پاکستان میں سینئر صحافیوں کا ایک ساتھ کسی ایک متنازع موضوع پر بحث کو چھیڑنا اور وہ بھی اس قدر منظم طریقے سے تو گمان یہی ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے ڈور ہلانے والا کوئی اور ہی ہے۔

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں