خان لیاقت علی خان وزیراعظم ہاؤس سے باہر آئے‘ بھارت کو مخاطب کیا اور اعلان کیا ’’ہم پانی کے ایک ایک قطرے کی خاطر اپنے خون کا ایک ایک قطرہ دے دیں گے‘‘

خان لیاقت علی خان وزیراعظم ہاؤس سے باہر آئے‘ بھارت کو مخاطب کیا اور اعلان کیا

’’ہم پانی کے ایک ایک قطرے کی خاطر اپنے خون کا ایک ایک قطرہ دے دیں گے‘‘
یہ اعلان کارگر ثابت ہوا‘ عالمی برادری آگے بڑھی اور پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی پر مذاکرات شروع ہوگئے‘ پاکستانی حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں لیکن مذاکرات جاری رہے یہاں تک کہ ورلڈ بینک درمیان میں آیا اور اس نے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو صدر جنرل ایوب خان کے ساتھ بیٹھنے پر مجبور کر دیا‘ پنڈت نہرو پاکستان آئے‘ کراچی میں مذاکرات ہوئے اور 9 ستمبر 1960ء کو پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہو گیا‘ یہ معاہدہ سندھ طاس کہلاتا ہے‘ صدر ایوب خان اور پنڈت نہرو نے معاہدے پر فریقین اور ورلڈ بینک کے نائب صدر اے پی ایلف نے ضامن کی حیثیت سے دستخط کیے۔
معاہدے کے مطابق ستلج‘ راوی اور بیاس کا پانی بھارت اور چناب‘ جہلم اور سندھ کے دریا پاکستان کو مل گئے‘ فیصلہ ہوا پاکستان دس برس میں دریائے سندھ‘ جہلم‘ چناب‘ راوی اور ستلج پر ڈیم‘ بیراج اور رابطہ نہریں بنائے گا‘ یہ نہریں‘ بیراج اور ڈیم پاکستان کی آبی ضروریات پوری کریں گے‘ ورلڈ بینک ان منصوبوں کے لیے 1070 ملین ڈالر قرض دے گا‘ 870 ملین ڈالر پاکستان اور 200 ملین ڈالر بھارت میں خرچ ہوں گے۔
معاہدہ ہو گیا‘ بھارت کا خیال تھا پاکستان دس برسوں میں تین ڈیم‘ پانچ بیراج اور سات رابطہ نہریں نہیں بنا سکے گا چنانچہ پاکستان کے حصے کا پانی بھی بھارت استعمال کرے گا لیکن ہمارے واپڈا نے دس برس میں دریائے جہلم پر منگلا‘ ڈیم‘ دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم‘ سندھ‘ جہلم‘ چناب‘راوی اور ستلج پر پانچ بیراج اور چشمہ جہلم لنک‘ تونسہ پنجند لنک‘ رسول قادر آباد لنک‘ قادر آباد بلوکی لنک‘ تریموں سدھنائی لنک‘ میلسی بہاول لنک اور بلوکی سلیمانکی لنک جیسی سات رابطہ نہریں بنا کر پوری دنیا کو حیران کر دیا‘ یہ منصوبہ پاکستان کی تاریخ کے ان چند منصوبوں میں شامل تھا جو پاکستانی قوم کے عزم اور قوت فیصلہ کا گواہ ثابت ہوا۔
یہ منصوبہ وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جس نے بھارت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا‘ بھارت نے فیصلہ کیا ’’ہم اب پاکستان کو کوئی نیا ڈیم نہیں بنانے دیں گے‘‘ آپ 1970ء سے لے کر 2016ء تک 46 سال کی پاک بھارت تاریخ دیکھ لیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے وہ قوم جس نے 10 سال میں دنیا کا دوسرا بڑا آبی نظام بنایا تھا وہ 46 سال میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا سکی‘ کیوں؟ کیونکہ بھارت نے پاکستان میں کوئی ڈیم نہیں بننے دیا‘ پاکستان جوں ہی کوئی پراجیکٹ شروع کرتا تھا‘ بھارتی لابی پریشر گروپس کو ایکٹو کر دیتی تھی اور یہ گروپس ڈیم کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کر دیتے تھے‘ ہمیں ماننا ہوگا بھارت 46 برسوں سے ان پریشر گروپس پر سرمایہ کاری کر رہا ہے‘ یہ دوسری طرف سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی کر رہا ہے۔
پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کے مطابق دریائے سندھ‘ جہلم اور چناب کا پانی بلاتعطل ملنا چاہیے لیکن بھارت نے 1992ء میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع ڈوڈا میں دریائے چناب کے ماخذ پر بگلیہار ڈیم بنانے کا اعلان کر دیا‘ یہ منصوبہ 1992ء میں شروع ہوا‘ 1996ء میں منظوری ہوئی اور یہ ڈیم 1999ء میں بننے لگا‘ پاکستان نے شدید احتجاج کیا لیکن احتجاج کے باوجود ڈیم کا پہلا فیز 2004ء اور دوسرا فیز 2008ء میں مکمل ہو گیا‘ یہ ڈیم بھارت کو 450 میگاواٹ بجلی اور 50 ہزار میگاواٹ تسکین دے گا‘ کیوں؟ کیونکہ بگلیہار ڈیم کی وجہ سے پاکستان کا تین لاکھ 21 ہزار ایکڑفٹ پانی کم ہو گیا جس کے نتیجہ میں ہماری 13 لاکھ ایکڑ زرعی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں۔
بھارت نے اس کے بعد 2007ء میں دریائے جہلم کے ماخذ پر کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ شروع کر دیا‘ یہ پراجیکٹ مقبوضہ کشمیر میں بندی پور کے قریب شروع ہوا‘ بھارت کشن گنگا کے ذریعے دریائے جہلم کا پانی 24 کلو میٹر لمبی سرنگ میں پھینکے گا اور یہ وہاں سے پانی کو بھارتی علاقوں کی طرف موڑ لے گا‘ کشن گنگا کی وجہ سے پاکستان میں نیلم جہلم پراجیکٹ کا پانی 16 فیصد کم ہو گیا‘ ہم ہر سال 8 ارب روپے نقصان برداشت کر رہے ہیں جب کہ مستقبل میں نیلم جہلم کی بجلی کی پیداوار دس فیصد کم ہو گی‘ جہلم ویلی کے جنگلات‘ زرعی زمینیں اور ماحولیات پر بھی خوفناک اثرات مرتب ہوں گے‘ پاکستان ابھی کشن گنگا پر احتجاج کر رہا تھا کہ بھارت نے جون 2013ء میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں ریتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹ بھی شروع کر دیا‘ یہ کشن گنگا اور بگلیہار سے تین گنا بڑا منصوبہ ہے۔
یہ 2018ء تک مکمل ہو گا اور اس کے بعد دریائے چناب کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ 40 فیصد کم ہو جائے گا یوں پنجاب اور سندھ کی لاکھوں ایکڑ زمینیں بنجر ہو جائیں گی‘بھارت 2022ء تک پاکستان کے پانیوں سے 32 ہزار میگاواٹ بجلی بنانا چاہتا ہے ‘ یہ پانیوں کا رخ بھی پاکستان سے بھارت کی طرف موڑنا چاہتا ہے‘ یہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لیے ترسانا چاہتا ہے لیکن ہم سوئے ہوئے ہیں‘ ہم بھارتی لابی کے دباؤ میں دریائے سندھ پر ڈیم بھی نہیں بنا رہے اور دوسری طرف ہم چناب اور جہلم پر تین بڑے بھارتی ڈیموں پر عالمی رائے عامہ بھی ہموار نہیں کر سکے‘


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں