بھارتی فوج میں خواتین کو کیوں بھرتی کیا جاتا ھے دوران ڈیوٹی ان خواتین سے کیا شرمناک کام لیا جاتا ھے جانئے اس رپورٹ میں

(اہم نیوز)   بھارتی فوج کے راز اکثر سامنے آتے رہتے ہیں کبھی اچھا کھانا نہ ملنے کی بھارتی فوجیوں کی ویڈیوز وائرل ہو جاتی ہیں تو کبھی تنخواہ نہ ملنے اور افسروں کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر خود کشی کرنے کے واقعات سامنے آ جاتے ہیں۔تاہم اب ایک راز کا انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی افسر اپنی ماتحت فیمیل افسران سے ناجائز تعلق رکھنے کے لیے انہیں اپنی یونٹ میں بھرتی کرتے ہیں۔

یعنی بھارتی فوج میں خواتین کو ڈیوٹی کے لیے نہیں بلکہ جنسی تسکین کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔بھارتی پیرا ملٹری فورس سے استعفیٰ دینے والی ڈپٹی کمانڈنٹ کرونا جیت کور کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز میں خواتین کو جنسی خواہشات پوری کرنے کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔بھارت کے علاقائی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کرونا جیت کور نے بتایا کہ بھارت کی سرحدی فورس انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی گئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے آئی ٹی بی پی میں ڈاکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ‘مجھے سرحد پر ایک خاتون ڈپٹی کمانڈنٹ کے ساتھ تعینات کیا گیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘رواں سال 9 اور 10 جون کی رات کو ایک کانسٹیبل ان کے کمرے میں دروازہ کھول کر گھسا اور اس نے میرے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی۔’انہوں نے کہا کہ ‘جب میں نے یہ واقعہ پوسٹ کمانڈر کے انچارج افسر کو بتایا تو انہوں نے غیر ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے کانسٹیبل سے کہا کہ اسے دوا کی ضرورت تھی تو یہاں کیوں آیا اور بعد ازاں اسے جا کر سونے کا کہا’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘میں نے اس رویے کی مخالفت کی اور ٹیلی فون یا وائرلیس تک کی رسائی طلب کی جس پر انہوں نے بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ وائرلیس کام نہیں کر رہے ہیں ‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘میں نے بھارتی فوج کے ٹیلی فون کے ذریعے اپنے سینئر کو فون کیا تو وہ نشے میں تھے اور انہوں نے اگلے دن صبح کو فون کرنے کا کہا’۔خاتون کا کہنا تھا کہ ‘اگلے دن میرے سینئر نے خود مجھے فون کیا اور سوال کیا کہ اس بارے میں ڈی جی کو کس نے بتایا اور کہا کہ اپنے دروازے کے لاک کے خراب ہونے کے بارے میں کسی کو نہ بتانا’۔

کرونا جیت کور کا کہنا تھا کہ ‘بھارتی فورسز میں خواتین کو جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے، اگر ایک کانسٹیبل ڈپٹی کمانڈنٹ کے ساتھ زیادتی کی کوشش کر سکتا ہے تو دیگر جگہوں پر کیا صورتحال ہوگی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘فورسز میں بڑی تعداد میں خواتین کو اس مسئلے کا سامنا ہے تاہم وہ نجی مسائل کی وجہ سے اس بارے میں بات کرنا برداشت نہیں کر سکتیں ‘۔چونکہ بھارت میں غربت کا راج بھی زیادہ ہے اس لیے خواتین فوج میں بھرتی ہو جاتی ہیں مگر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی سے متعلق کہیں آواز نہیں اٹھاتیں کیونکہ اگر وہ کسی سے شکایت کرتی بھی ہیں تو الٹا انہی کو ہی غلط نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں