شریف خاندان سے قطر میں مذاکرات کی اطلاع ملنے پر عمران خان نے کہا کہ میں مستعفی ہو رہا ہوں آدھی رات کے وقت جہانگیر ترین کو سویا ہوا جگایا گیا جو بھاگم بھاگ عمران خان کے پاس پہنچے

شریف خاندان سے قطر میں مذاکرات کی اطلاع ملنے پر عمران خان نے کہا کہ میں مستعفی ہو رہا ہوں

آدھی رات کے وقت جہانگیر ترین کو سویا ہوا جگایا گیا جو بھاگم بھاگ عمران خان کے پاس پہنچے

اسلام آباد (اہم نیوز) : جمیعت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف آزادی مارچ کا اعلان کر رکھا تھا لیکن نواز شریف کی بیماری اور ان کی اسپتال منتقلی کے بعد آزادی مارچ کی خبریں محدود ہو گئیں اور نواز شریف نے خبروں میں اپنی جگہ بنا لی۔ مولانا فضل الرحمان سے متعلق بات کرتے ہوئے کالم نگار منصور آفاق نے اپنے حالیہ کالم میں کہا کہ خبر یہی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو ”ضرورت مند” استعمال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

لطف کی بات ہے کہ مولانا کو اس بات کا کوئی دکھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاید اتنے نذرانے انہیں زندگی بھر نہیں ملے،جتنے پچھلے ایک ماہ میں اُن کی خدمت میں پیش کئے گئے۔ سب سے زیادہ نذرانہ ”اہلِ شرف” کی طرف سے ملا۔

پچھلی بار جب شریف فیملی کے ساتھ قطر میں مذاکرات کی اطلاع عمران خان تک پہنچی تو انہوں نے کہا کہ ”میں مستعفی ہو رہا ہوں”۔ جس کے بعد آدھی رات کے وقت جہانگیر ترین کو سویا ہوا جگایا گیا۔

وہ بھاگم بھاگ عمران خان کے پاس پہنچے۔ کہتے ہیں روشنی ہونے تک گفت و شنید جاری رہی۔ آخر کار طے پایا کہ نواز شریف اور مریم نواز پلی بارگینگ کی فلائٹ پر ملک سے باہر چلے جائیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اگلے دن عمران خان نے تقریر کرتے ہوئے کہہ دیا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری پیسے دے دیں اور ملک سے باہر چلے جائیں مگر وہ دونوں اس فلائٹ پر سفر کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔انہیں معلوم تھا کہ اس جہاز کو سیاسی سطح پر موت کے جرائر میں خوش آمدید کہا جائے گا۔

اب توقع ہے کہ نواز شریف واپس جیل نہیں جائیں گے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ کسی وقت بھی کسی خصوصی طیارے پر لندن کے لئے پرواز کر جائیں گے اور وہ طیارہ بھی وزیراعلیٰ پنجاب کا ہو سکتا ہے۔ وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کہہ چکی ہیں کہ ’’اگر نواز شریف بیرونِ ملک علاج کا کہیں گے تو انکار نہیں ہوگا‘‘۔ توقع ہے کہ عدالت بھی بیماری کے سبب نواز شریف کو ضمانت پر رہا کر دے گی۔ منصور آفاق نے کہا کہ کچھ ڈاکٹرز کو اس بات پر بھی حیرت ہےکہ اتنے کم پلیٹ لیٹس ہو جانے کے باوجود اب تک ان کے اندر سے خون آنا نہیں شروع ہوا، وہ بے ہوش نہیں ہوئے بلکہ گفتگو بھی کررہے ہیں اور مذاق بھی۔

اپنے پلیٹ لیٹس کی رپورٹ دیکھ کر انہوں نے کہا ’’یہ میرے بلڈ ٹیسٹ کا رزلٹ ہے یا الیکشن کا‘‘۔ نواز شریف کا قصہ کیا ہے، یہ تو خدا جانتا ہے مگر لوگ کہہ رہے ہیں کہ جس حد تک ممکن ہے عمران خان پر اُس حد تک مسلسل دبائو بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی پُرامن احتجاج کی اجازت حکومت سے دلوا دی گئی ہے۔ عمران خان کو یقین دلا دیا گیا ہے کہ کچھ غلط نہیں ہوگا۔ بس وہ لوگ چار پانچ دن رہیں گے۔ ایک بستر، ایک کمبل، دو جوڑے کپڑے، خشک میوہ جات، چنے اور پانی ساتھ ہوگا۔

نعرے لگائیں گے تقریریں سنیں گے اور واپس چلے جائیں گے۔ کسی کو لائسنس یافتہ یا غیر لائسنس یافتہ ہتھیار، چاقو، ڈنڈا یا لاٹھی رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہیں احتجاج کے لئے پریڈ گراونڈ فراہم کیا گیا ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ پریڈ گراؤنڈ سے نکل کر اسمبلی کی طرف چلے پڑے تو کیا ہوگا اور وہ یقیناً ایسا کریں گے، یعنی دبائو اور بڑھا دیا جائے گا۔ کئی اور باتیں بھی منوائی جائیں گی۔ خاموش مطالبات میں عثمان بزدار کا استعفا بھی شامل ہے۔یہ دعوی بھی سامنے آیا کہ مولانا فضل الرحمٰن آزادی مارچ کا اعلان کرنے سے پہلے آرمی چیف سے ملے، مجھے اُن کے ملنے پر کوئی اعتراض نہیں مگر ملاقات کے خفیہ رکھنے پر تشویش ضرور ہے۔

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں