پبلک سروس میسج۔۔؟

پبلک سروس میسج۔
السلام و علیکم ، آجکل ایک میسیج آتا ہے اور یہ فراڈ عام ہوا ہے مارکیٹ میں پرانے ٹی ویز. ریڈیوز. سلائی مشینز کی خرید و فروخت کا۔
تو سوچا اسکے حقائق آپکو بتا دوں۔
کیونکہ کچھ دوست بھی کہہ رہے تھے کہ کہیں سے پتہ کر کے بتاؤ۔
یہ وہی ہے جیسا پہلے فراڈ آیا تھا کہ بادلوں والے سکے، ایک روپے والا سکہ اور پچھلے دنوں چمگادڑوں کا گھونسلہ۔
دراصل کچھ میرے جیسے ویلے لوگ شغل میں مشہور کر دیتے ایسی افواہیں اڑا دیتے اور کچھ کاروبار کرتے اس سے۔
کاروبار کیسے کرتے اسکی مثال سے سمجھاتا ہوں۔
کہیں جنگل میں ایک گاؤں تھا وہاں بندر بھی بہت زیادہ رہتے تھے جو مختلف نسل کے بندر تھے اور گاؤں والوں کے ساتھ ہی گھومتے پھرتے تھے۔
وہاں ایک بار دو بندے باہر سے گئے اچھا لباس پہنے اور اچھی گاڑی پر روپے پیسے والے تھے۔ انہوں نے گاؤں والوں کو اکٹھا کیا کہ یہاں بندر کا ریٹ کیا ہے۔
گاؤں والوں نے کہا کہ انکا ریٹ کیا ہونا ویسے پھرتے ہیں یہاں تو ان بندوں نے گاؤں والوں کو کہا کہ ہمیں آپ 20 بندر ایسے پکڑ کے دے دیں جنکے بدن پر کالے دھبے ہوں تو ہم آپکو ایک بندر کا 20000 دیں گے گاؤں کے لوگ پہلے تو حیران ہوئے کہ ان بندروں کا بھلا کون 20 ہزار دے گا خیر انہوں نے جیسے تیسے کر کے 2 دنوں میں بندر دے دیئے اور 20 ہزار کے حساب سے پیسے لے لئے۔
ایسا ہی سلسلہ چلتا رہا کچھ عرصے بعد وہ آتے اور بندر لے جاتے اور بندروں کی قیمت 50 ہزار تک کر دی۔
پھر جب سارے کالے دھبے والے بندر ختم ہو گئے تو وہ لوگ چلے گئے۔
کچھ عرصے بعد وہ لوگ واپس آئے اور گاؤں والوں کو کہا کہ ہمیں ویسے ہی بندر چاہیئں وہ ہمارے باس نے منگوائے ہیں اور کسی خاص مقاصد کیلۓ لے کر جا رہے ہیں اب ایک بندر کے آپکو 1 کروڑ دیں گے اور ہم 1 مہینے بعد آئیں گے۔
گاؤں کے لوگوں نے کالے دھبے والے بندروں کی تلاش جاری رکھی مگر ناکام رہے۔
پھر چند دن بعد ان 2 بندوں کا تیسرا پارٹنر اسی گاؤں آیا جہاں لوگوں سے اس نے اس بارے میں سنا کہ کالے دھبے والے بندر ڈھونڈ رہے ہیں جو ایک کروڑ کے خریدیں گے ہم سے لوگ۔
اس بندے نے کہا ان سے کہ اگر میں آپنے گاؤں سے آپکو لا کر دوں تو مجھے کتنے پیسے دو گے۔
اوپر نیچے کمی پیشی چلتی رہی اور بات 20 لاکھ فی بندر پر ڈن ہوئی۔
گاؤں والوں نے زیورات بیچے، زمینیں بیچیں خیر پیسے اکٹھے کر لئے۔
اور اسی بندے سے 20 لاکھ کے حساب سے فی بندر خرید لئے، وہ بندہ گاؤں میں بندر پہنچا کر چلا گیا۔
گاؤں والے بندر لئے انتظار کرتے رہے مگر نہ کوئی آیا اور نا کسی نے آنا تھا۔
جو بندر انہوں نے 20 لاکھ کے خریدے وہی پہلے 20 ہزار کے بیچے تھے انہوں نے۔
چونا لگ گیا گاؤں والوں کو
آجکل 1960 سے 1980 ،تک کے ٹی وی پرانی الیکٹرونک اشیاء سلائی مشینیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ان میں ریڈ مرکری لیکویڈ کی ٹیوب ہے جسی مالیت لاکھوں میں ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ریڈ مرکری نامی دھات کا دنیا میں کوئی وجود ہی نہیں اور دوسری بات اللہ کے بندو 1700 میں بھی مرکری دھات نایاب ترین دھات تھی اور جرمنی، فرانس کا دماغ خراب وہ ٹی وی میں مرکری استعمال کرتے۔
یہ اس وقت کا ٹرانزیسٹر تھا اب جدید ٹرانزیسٹرز آ گئے ہیں۔
مگر پہلے یہ ٹیوب ٹرانزیسٹر کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔
کچھ کا کہنا ہے کہ ایٹم بم میں یہ مرکری استعمال ہوتا ہے
اگر ایسا ہوتا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان اربوں روپے لگا کر ایٹم بم بنا کر نظر بند نہ ہوتے۔ بلکہ آپ سے ٹی وی خرید کر کسی مکینک کی دکان پر ایٹم بم بنا لیتے۔
ایسے فراڈ سے بچو ، جو روزی روٹی جہاں سے جتنی مل رہی ہے اس پر ہی شکر ادا کرو۔
مجھے کچھ دن پہلے لاہور سے کال۔آئی دوست کی کہ چمگادڑ کا گھونسلہ ڈھونڈ کہیں سے 1 کروڑ کا بکے گا دونوں بھائی 50 50 لاکھ بانٹ لیں گے ???
میں نے کہا تو ہاتھی کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈھونڈ کے لے آ وہ 5 کروڑ کے بکیں گے ??
امید ہے جن جن کے پاس ٹی وی پڑے ہیں یہ پڑھ کر ان کے دل کے ارمانوں کو ٹھیس پہنچی ہو گی۔
بچو ان فراڈیوں سے سب لوگ۔

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں