انڈین سپریم کورٹ نے تاریخی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنا دیا ۔ تفصیل جانئے

انڈیا کی سپریم کورٹ نے اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس رنجن گوگئی کی سربراہی میں پانچ ججوں کے بینچ نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ متنازع زمین ایک ٹرسٹ کے حوالے کی جائے۔ یہ ٹرسٹ مرکزی حکومت تین مہینے کے اندر تشکیل دے۔

‏عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ مسلم فریق سنی وقف بورڈ کو ایودھیا کے اندر کسی نمایاں مقام پر مسجد کی تعمیر کے لیے متبادل پانچ ایکڑ زمین دی جائے۔

مندر مسجد کے اس پرانے تنازعے کا فیصلہ سنانے والے بینچ کی صدارت چیف جسٹس رنجن گوگئی کر رہے ہیں۔ باقی چار ججوں میں جسٹس شرد اردون بوبڈے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس ایس عبدالنظیر شامل ہیں۔

فیصلہ آنے سے سے قبل ایودھیا اور پورے ملک میں سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ ایودھیا میں متنازع مقام سمیت اہم عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ کئی مقامات پر انسداد دہشت گردی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ایودھیا میں دفعہ 144 کے تحت حکم امتناعی نافذ کر دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت 16 اکتوبر 2019 کو مکمل کر لی تھی۔

مسلمانوں کا موقف رکھنے والے وکیلوں کی ٹیم

جسٹس گوگئی نے جمعے کو اتر پردیش کے چیف سکریٹری اور اعلیٰ پولیس اہکاروں سے ریاست کی امن و امان کی صورتحال پر ملاقات کی تھی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے مثبت پیغامات دینے کے لیے مذہبی رہنماؤں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو کسی کی جیت اور کسی کی ہار کی شکل میں نہ دیکھا جائے۔

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں