پنجاب یونیورسٹی 17 سال بعد کیس ہار گئی طالبہ والدہ بن کر کیس جیت گئی ۔ تفصیل جانئے

ایک لڑکی نے ایم اے انگریزی سال اول کا امتحان دیا. نتیجہ آیا تو اسے ایک پرچے میں غیر حاضر ظاہر کرکے فیل کردیا گیا تھا، حالانکہ وہ پرچہ اس نے دیا تھا.
وہ والد کے ساتھ یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات گئی. تو ایک کلرک نے اس کے والد سے کہا، اس سے پوچھیں، کہاں گئی تھی کہ پرچہ دینے نہیں پہنچی . یہ بات اسے کھا گئی. یہ اس کے کردار پر حملہ تھا. اس کا رو رو کر برا حال ہوگیا. اس قدر ذہنی اذیت ہوئی کہ خودکشی تک کا سوچا. اس کا سول سروس کے مقابلے کے امتحان میں شریک ہونے کا خواب چکنا چور ہوگیا.
اس کے والد نے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا.
مقدمہ دائر ہونے کے چار ماہ بعد یونیورسٹی والوں نے اس کا “غیر حاضری والا” پرچہ ڈھونڈ نکالا اور اسے پاس بھی کردیا.
لیکن اس کی جو بے عزتی اور کردار کشی ہوئی تھی، اس پر اس نے یونیورسٹی پر ہتک عزت اور 25 لاکھ روپے ہرجانے کا دعوی’ دائر کردیا. اس کے خلاف یونیورسٹی کے وکلاء سپریم کورٹ تک گئے. لیکن کسی نے اب تک اس سے معذرت کی ضرورت نہیں سمجھی.

عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کو اسے 8 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا، یونیورسٹی نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی، مزید ایک سال اس میں لگ گیا. اب عدالت نے یونیورسٹی کی اپیل خارج کرکے پھر اس کے حق میں فیصلہ دیا ہے.
لیکن اس سب کچھ میں 17 سال لگ گئے.

وہ اکیس سالہ لڑکی وجیہہ عروج جو اب 38 برس کی ہوچکی ہے. کوئی دس سال سے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ کینیڈا میں رہ رہی ہے. اس کے والد صغیر محمد خاں سابق جج ہیں، وہ اس کی پیروی کرتے رہے، ورنہ یہ مقدمہ عدم پیروی پر کب کا خارج ہوچکا ہوتا.
یونیورسٹی اگر شروع میں ہی معذرت کرلیتی تو اچھا نہ ہوتا ؟ بس یونیورسٹی کے وکیلوں، لا آفیسرز اور کئی دوسروں کی کمائیاں نہ ہوتیں.

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں