امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کا تخلیق کردہ ایک سافٹ ویئر جوشیطان بن گیا.ڈارک ویب سے منسلک ہوشرباء معلومات ۔۔۔۔مذید جانئے

12 نومبر کی سہ پہر راولپنڈی پولیس نے ایسے ملزم کو گرفتار کیا جو بچوں پر زیادتی کرتے ہوئے ان کی فلمیں بناتا تھا۔ یہ فلمیں پھر وہ ڈارک ویب میں سرگرم بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ فروخت کردیتا۔

سہیل نامی یہ مجرم اعلیٰ تعلیم یافتہ اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے۔ خیبرپختونخوا کے شعبہ پلاننگ میں کام کرتے ہوئے تین لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پاتا تھا۔ مزید تفتیش سے انکشاف ہوا کہ وہ برطانیہ اور اٹلی میں بھی بچوں پر ظلم کرچکا۔ چناں چہ وہاں کی حکومتوں نے اسے ملک بدر کردیا۔

مقام حیرت ہے کہ پاکستان میں یہ بد سیرت انسان کھلا گھومتا رہا اور پولیس نے اس پر نظر نہیں رکھی۔ یہی وجہ ہے،کئی بچے اس کے لالچ و ہوس کی بھینٹ چڑھ گئے۔چند دن بعد جامکے چٹھہ(گوجرانوالہ)سے ایک امام پکڑا گیا۔یہ بد بخت بھی مسجد آنے والوں بچوں سے زیادتی کرتا،ان کی وڈیو بناتا اور ڈارک ویب میں فروخت کر دیتا۔

دور حاضر کا بھیانک عجوبہ
انسانی فطرت دنیا کے پُراسرار اور سمجھ نہ آنے والے چندعجائب میں سے ایک ہے۔ فلسفہ اور سائنس ابھی تک اسے سمجھنے کی سعی میں ہیں۔ بعض مفکرین کا دعوی ہے کہ انسان فطرتاً شرپسند ہے۔دیگر اس استدلال سے اتفاق نہیں کرتے۔ مثلاً یونانی فلسفی افلاطون کا قول ہے ’’انسان قدرتی طور پر شر کو پسند نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے، جب اس کے سامنے دو شر آئیں تو عموماً وہ چھوٹا شر ہی اپناتا ہے۔‘‘ تاہم دور جدید میں بڑھتی مادہ پرستی،خواہشات اور پیسے کی ہوس انسانوں کو ایسے خوفناک کام کرنے پر بھی اکسانے لگی ہے جو ماضی میں عنقا تھے۔ دور حاضر کے انہی بھیانک عجوبوں میں بچوں کا جسمانی استحصال اور خواتین پر ظلم بھی شامل ہے۔
کہتے ہیں کہ بچے وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے جنت تھام رکھی ہے۔ جو انسان دن میں کچھ وقت معصوم بچوں کے ساتھ گزار لے، اس کی تھکن دور ہوتی اور وہ ہشاش بشاش ہوجاتا ہے۔ یہ تو گھر اور محلے کی رونق ہیں۔ مگر قیامت کا زمانہ آگیا کہ شقی القلب لوگ ان پھولوں اور کلیوں کو بے دردی سے مسلنے لگے ہیں۔ ان کے نہ دل لرزتے اور نہ ہاتھ کانپتے ہیں۔
پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم، ساحل بچوں پر ہونے والے ظلم کے اعدادو شمار اکٹھے کرتی ہے۔ اس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں سال آٹھ سو بچیاں اور چھ سو لڑکے ظلم کا نشانہ بن چکے۔ چار سو بچے اغوا ہوئے جبکہ کئی لڑکوں لڑکیوں پر ظلم کرنے کے بعد انہیں قتل کردیا گیا۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کی رپورٹ تھانے میں درج ہوئی ورنہ بہت سے والدین بدنامی سے بچنے کی خاطر ایسے واقعات پوشیدہ رکھتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں روزانہ دس بچے بچیاں کسی نہ کسی قسم کے جسمانی ظلم کا شکار ہوتی ہیں۔ ماضی میں ایسے اُکا دُکا واقعات ہوتے تھے لیکن اب روزانہ خبریں آنے لگی ہیں کہ فلاں جگہ بچہ یا بچی درندگی کا نشانہ بن گئی۔
دنیا بھر کے عالم فاضل اور مفکر متفق ہیں کہ تمام جرائم اور گناہوں میں اسفل ترین اور قبیح ترین گناہ یہ ہے کہ کسی بچے بچی پر ظلم ڈھایا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس سوچ کے باوجود پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں بچوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے واقعات میں اضافہ کیوں جاری ہے؟ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بچوں کے استحصال کی فلمیں بنانا اور تصاویر لینا منافع بخش کاروبار بن چکا۔ دنیا بھر میں ایسے کئی جرائم پیشہ گروہ جنم لے چکے جو ان گھٹیا ترین فلموں و تصاویر کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ یہ گھناؤنا کاروبار کئی ارب ڈالر مالیت رکھتا ہے۔
اس عالمی کاروبار کی خوفناکی کا اندازہ یوں لگائیے کہ یہ بے ضمیر گروہ نوزائیدہ بچوں پر ہوتے ظلم کی فلمیں و تصاویر بھی خریدتے اور بیچتے ہیں۔یہ بڑا المیہ ہے کہ دور جدید کی ایجادات… انٹرنیٹ، موبائل فون اور رابطہ کرنے والے سافٹ ویئرز نے اس گھٹیا و ذلیل ترین کاروبار کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کیے۔بے شک ان ایجادات کے فوائد بھی ہیں۔یہ معلومات کی فراہمی اور رابطے کا بڑا ذریعہ بن چکیں۔لیکن بچوں پہ ظلم کو بڑھاوا دینا ان ایجادات کا نہایت منفی و شرپسندانہ روپ ہے۔ اب کوئی بھی بچے پر ہوتے جبر کی ویڈیو عام موبائل سے بنا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو پھر دنیائے انٹرنیٹ میں سرگرم جرائم پسند گروہ مہنگے داموں خریدتے ہیں۔ وہ گروہ یہ ویڈیو ہوس کے مارے لوگوں کو مہنگے داموں فروخت کرتے اور سالانہ کروڑوں ڈالر کماتے ہیں۔اسی خرید وفروخت نے اسفل کاروبار کو منافع بخش بنا دیا۔
آج دنیا کے ہر ملک میں ان جرائم پیشہ گروہوں کے ایجنٹ موجود ہیں۔ یہ ایجنٹ لوگوں سے فحش ویڈیوز اور تصاویر منہ مانگے داموں پر خریدتے ہیں۔ ان ویڈیو میں بالغ ہی نہیں بچوں پر ہوتا ظلم بھی دکھایا جاتا ہے۔ یہ ویڈیوز گروہوں کی ویب سائٹوں پر برائے فروخت رکھی جاتی ہیں۔ جس ویڈیو میں جتنا زیادہ ظلم اور وحشیانہ حرکات ہوں، وہ اتنی ہی مہنگی ہوتی ہے۔ سادیت پسند لوگ اسے مہنگے داموں خریدتے ہیں۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں جرائم پیشہ گروہوں کے ایجنٹ غریب نوجوانوں کو پھانس رہے ہیں۔ وہ انہیں کہتے ہیں کہ راتوں رات امیر بننے کا نسخہ یہ ہے کہ بچوں کو استحصال کا نشانہ بناؤ اور اس قبیح عمل کی ویڈیو بنالو۔ اس ویڈیو کی بھاری رقم ملے گی۔ یہی وجہ ہے، ترقی پذیر ممالک میں بچوں پر ظلم کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ ان واقعات کی لرزہ خیز ویڈیوز زیادہ مہنگی ہوتی ہیں۔
اکلوتی سپر پاور کا ہاتھ
اس موقع پر قدرتاً یہ سوال جنم لیتا ہے کہ دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا گھوڑے بیچ کر سوئے ہیں؟ ان کی موجودگی میں بچوں پر ہوتے ظلم و ستم کی ویڈیوز و تصاویر کا کاروبار کیسے پھل پھول رہا ہے؟ امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس وغیرہ بیشتر مغربی ممالک دنیائے سائنس و ٹیکنالوجی کے سرتاج ہیں۔ کیا وہ ایسے آلات اور سافٹ ویئر بھی نہیں رکھتے جو انٹرنیٹ میں ویڈیوز کا بھیانک کاروبار کرنے والے گروہوں کی ویب سائٹیں ڈھونڈ نکالیں اور ان کا قلع قمع کردیں؟ یہ خوفناک کاروبار انہی ویب سائٹوں کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔ ان سوالات کا جواب تلاش کرتے ہوئے آخر کار یہ تلخ بلکہ حیران کن سچائی سامنے آتی ہے کہ دنیائے نیٹ میں شیطانی ویڈیوز اور تصاویر کے کاروبار کو دنیا کی اکلوتی سپرپاور، امریکا کے باعث پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔نیٹ کی بے کراںدنیا میں اس خوفناک کاروبار کو وسعت بلکہ جنم دینے میں امریکی حکمران طبقے نے براہ راست کردار ادا کیا۔
اٹھائیس برس قبل 6 اگست 1991ء کو پہلی ویب سائٹس لانچ ہوئی تھی۔ آج دنیائے نیٹ میں ایک ارب ساٹھ کروڑ ویب سائٹس موجود ہیں۔ ہر سیکنڈ میں دو جبکہ فی گھنٹہ سات ہزار دو سو نئی ویب سائٹس کھل جاتی ہیں۔ ان ویب سائٹوں میں کھربوں میگا بائٹ ڈیٹا محفوظ ہے۔ اس ڈیٹا کی وسعت کا اندازہ یوں لگائیے کہ صرف یوٹیوب پر فی سیکنڈ ’’82ہزار‘‘ ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں۔ آج دنیا کے ’’ساڑھے چار ارب‘‘ انسان روزانہ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ڈیڑھ ارب سے زائد ویب سائٹس کو دو گروہوں یا حصّوں میں تقسیم کیا گیا… سرفیس ویب (Surface Web ) اور ڈیب ویب (Deep Web) ۔سرفیس ویب دنیائے نیٹ کا 10 فیصد حصہ ہے۔ اس میں وہ ویب سائٹس موجود ہیں جن تک ہر کوئی رسائی رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر نیوز سائٹس جیسے روزنامہ ایکسپریس کی سائٹ، ایمزن، فیس بک، یوٹیوب، بینک، سرکاری محکمے وغیرہ وغیرہ۔
امریکی انٹیلی جنس کی تمنا
حکومتیں، بینک اور ملٹی نیشنل کمپنیاں جو ڈیٹا عوام سے پوشیدہ رکھنا چاہتی ہیں، وہ ان کی خفیہ ویب سائٹس میں محفوظ ہوتا ہے۔ ان ویب سائٹس کو رمز شناسی (Encryption) پر مبنی سافٹ ویئرز کے ذریعے ناقابل رسائی بنایا جاتا ہے۔ صرف یوزر نیم اور پاس ورڈ رکھنے والے ہی ان میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اس قسم کی تمام ویب سائٹس ڈیپ ویب کا حصہ ہیں۔ یہ دنیائے نیٹ کا 90 فیصد حصہ ہے۔ گویا عام لوگ نیٹ کی 90 فیصد ویب سائٹس تک رسائی نہیں رکھتے۔ڈیپ ویب ہی میں مختلف ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھی ویب سائٹس کھول رکھی ہیں۔ بڑی انٹیلی ایجنسیوں مثلاً امریکا کی سی آئی اے کے ایجنٹ دنیا بھر میں پھیلے ہیں۔ انہی ایجنٹوں کی مدد سے امریکا نے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اثرورسوخ بڑھایا اور وہاں اپنے مفادات پورے کیے۔ یہی ایجنٹ ہیں جن کی مدد سے ستر سال قبل شام اور ایران میں امریکا کے مخالف مسلمان حکمرانوں کی حکومتوں کا تختہ الٹا گیا۔ یوں عالم اسلام میں امریکی حکمران طبقے کی سازشوں کا آغاز ہوا جس میں شامل بیشتر مرد وزن اسرائیل نواز ہیں۔
ماضی میں بیرون ملکوں میں مقیم امریکی ایجنٹ اپنی خفیہ ایجنسیوں اور ساتھیوں سے مختلف طریقوں کی مدد سے رابطہ رکھتے تھے۔ مثلاً ریڈیو پر رمز شناسی پر مبنی جملوں سے پیغام دیئے جاتے۔ اخبارات میں اشتہار چھپواتے۔ جناتی زبان میں خط لکھے جاتے۔غرض تب باہمی رابطے کا طریق کار خاصا کٹھن اور پیچیدہ تھا۔ انٹرنیٹ کی آمد کے بعد منظر نامہ رفتہ رفتہ تبدیل ہوا۔سی آئی اے نے مختلف ویب سائٹس بنائیں اور ان کے ذریعے پیغام رسانی ہونے لگی۔ ظاہر ہے، اس رابطے کو بھی خفیہ رکھنے کی خاطر رمز شناسی سے مدد لی گئی۔ مگر امریکی حکمران طبقے کو اندیشہ تھا کہ روس، چین یا دیگر معاصر ممالک کے ماہرین رمز شناسی اس پیغام رسانی کو سمجھنے کا طریقہ دریافت کرسکتے ہیں۔ لہٰذا کوئی ایسا طریق کار دریافت کرنے پر غور و فکر ہونے لگا جس کے ذریعے دنیائے انٹرنیٹ میں سی آئی اے کی ویب سائٹس کو ہی دریافت کرنا بہت مشکل ہوجائے۔ مزید براں پیغام رسانی بھی پوشیدہ اور خفیہ رکھی جاسکے۔
یہ واضح رہے کہ امریکا جاسوسی و سراغ رسانی کا دنیا بھر میں سب سے بڑا نیٹ ورک رکھتا ہے۔ یہ نظام ’’انٹیلی جنس کمیونٹی‘‘(United States Intelligence Community ) کہلاتا ہے۔ اس کمیونٹی میں سی آئی اے اور ایف بی آئی سمیت ’’17 انٹیلی جنس ایجنسیاں‘‘ شامل ہیں۔ ان ایجنسیوں کے مزید کئی ذیلی ادارے ہیں۔ ان اداروں میں سے 1200 تو سرکاری جبکہ 1900 نجی بتائے جاتے ہیں۔ اداروں سے تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ مردوزن وابستہ ہیں۔ یہ سبھی امریکا اور بیرون ممالک میں انٹیلی جنس کی مختلف خدمات انجام دیتے ہیں۔ اتنے زیادہ ایجنٹوں کے مابین رابطے کا مربوط اور نہایت خفیہ نظام تشکیل دیئے رکھنا بچوں کا کھیل نہیں اور نہایت مہارت، بہت سا سرمایہ اور وقت چاہتا ہے۔
اونین روٹنگ کی تخلیق
کمپیوٹر سائنس سے متعلق امریکی انٹیلی جنس ادارے دنیائے انٹرنیٹ میں اپنا رابطے کا نظام پوشیدہ رکھنے اور کوئی منفرد سافٹ ویئر تخلیق کرنے کی خاطر تحقیق و تجربات کرنے لگے۔ انٹرنیٹ کی آمد نے باہمی رابطہ آسان بنادیا تھا۔ اب بھاری بھرکم وائرلیس ریڈیو یا اخبار میں اشتہار چھپوانے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ لیکن امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی دنیائے نیٹ میں پیغام رسانی کے اپنے نظام کو زیادہ سے زیادہ خفیہ رکھنا چاہتی تھی تاکہ دشمن اس تک رسائی نہ پاسکے۔مزید براں اسے یہ بھی خطرہ تھا کہ بیرون ممالک میں اس کے جو ایجنٹ پرائیویٹ یا سرکاری اداروں میں کام کررہے ہیں، وہ سی آئی اے یا امریکی افواج کی ویب سائٹس استعمال کرتے ہوئے پکڑے جاسکتے ہیں۔
مثلاً ایک این جی او کی انتظامیہ کو علم ہوا کہ فلاں اہل کار اکثر سی آئی اے یا امریکی فوج کی ویب سائٹ پر جاتا ہے، تو یقیناً وہ حیران رہ جاتی۔ اسی طرح سرکاری ادارے کے کرتا دھرتا یہ جان کر حیران پریشان ہی ہوں گے کہ فلاں اہل کار اکثر امریکی انٹیلی جنس ویب سائٹوں میں گھومتا پھرتا ہے۔ غرض اپنی سرگرمیوں سے یہ ایجنٹ جلد نظروں میں آجاتا۔ان کی شناخت پوشیدہ رکھنا ضروری تھا تاکہ وہ اپنے اصل کام بخوبی انجام دے سکیں۔
1995ء میں آخر امریکی بحریہ کے تحقیقی ادارے، نیول ریسرچ سینٹر سے منسلک کمپیوٹر سائنس دانوں پال سیورسن، مائیکل ریڈ اور ڈیوڈ گولڈ شیاگ نے ایسا سافٹ ویئر تیار کرلیا جو دنیائے انٹرنیٹ میں امریکی انٹیلی جنسی کمیونٹی کی ڈیجیٹل پیغام رسانی خفیہ رکھ سکتا تھا۔ یہ دنیائے نیٹ میں پیغام رسانی خفیہ رکھنے والا پہلا سافٹ ویئر تھا جسے ’’اونین روٹنگ‘‘ (Onion routing) کا نام ملا۔ 1995ء سے 2002ء تک امریکا کے مختلف عسکری و سول تحقیقی ادارے اس سافٹ ویئر کو بہتر بناتے رہے تاکہ وہ موثر بن سکے۔ اسی دوران سافٹ ویئر کو عملی جامہ بھی پہنادیا گیا۔
منصوبے کے تحت سب سے پہلے دنیا کے مختلف ممالک میں امریکی ایجنٹوں نے اپنے خفیہ مراکز میں ’’روٹر‘‘(Router) نصب کیے۔روٹر نیٹ ورکنگ کے وہ آلات ہیں جو بذریعہ نیٹ آنے والے پیغامات آگے بھجواتے ہیں۔ ان روٹروں کی تعداد ایک سے دو ہزار کے مابین تھی۔ یہ کام ہوچکا تو امریکا کے خفیہ ایجنٹوں نے اپنے خفیہ مراکز میں کمپیوٹر نصب کیے اور انہیں ووٹروں سے منسلک کردیا۔ امریکا کے مختلف شہروں میں سرور (Server) رکھے گئے۔ سرور وہ آلہ ہے جس میں سافٹ ویئر سے متعلق سارا ڈیٹا جمع ہوتا ہے۔ اس طرح امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی نیٹ کی دنیا میں ایک خفیہ نیٹ ورکنگ نظام تخلیق کرنے میں کامیاب رہی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا نیٹ ورک سسٹم تھا۔
ایک انوکھی چال
سوال یہ ہے کہ امریکی حکمران طبقے نے کروڑوں روپے خرچ کر جو قیمتی سافٹ ویئر بنایا ، اسے مفت کیوں تقسیم کیا جانے لگا؟ امریکی چاہتے تھے، ان کے تخلیق کردہ متوازی نیٹ ورک میں عام لوگ بھی اپنی ویب سائٹس کھول لیں۔ اس طرح امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی اور عام افراد کی ویب سائٹس گھل مل جاتیں۔ یوں امریکا کی دشمن طاقتوں کے لیے امریکی خفیہ ایجنسیوں کی ویب سائٹس تک پہنچا مزید دشوار مرحلہ بن جاتا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی چال کامیاب رہی۔جلد ہی مختلف حکومتوں سے لے کر عام لوگوں اور گروہوں نے اونین روٹنگ سافٹ ویئر سے فائدہ اٹھا کر اپنی ویب سائٹس کھول لیں۔ ان ویب سائٹس تک صرف مخصوص براؤزر کے ذریعے پہنچا جاسکتا تھا۔
اولیّں ویب سائٹس ان گروہوں یا افراد کی تھی جو اپنی حکومتوں سے نبرد آزما تھے۔ ایسے گروہوں اور افراد کی خواہش تھی کہ انٹرنیٹ میں ایسا طریق کار مل جائے جس کی مدد سے وہ آپس میں رابطہ رکھیں اور مخالف حکومتیں ان کی پیغام رسانی دریافت نہ کرسکیں۔اونین روٹنگ سافٹ ویئر نے ان کی یہ ضرورت پوری کردی۔ نت نئی ویب سائٹس کھلنے سے نیٹ کے متوازی نیٹ ورک میں ٹریفک بھی بڑھ گئی۔ یوں امریکی اسٹیبلشمنٹ کی یہ تمنا پوری ہوئی کہ عام لوگ اس کا خفیہ نیٹ ورک استعمال کرنے لگیں۔ اب امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی عام لوگوں کے درمیان رہ کر جاسوسی و سراغ رسانی کا اپنا کام زیادہ محفوظ طریقے سے کرسکتی تھی۔
2004ء میں امریکی حکومت نے اونین روٹنگ سافٹ ویئر اور براؤزر ماہرین کمپیوٹر کی ایک ٹیم کے حوالے کردیا۔ امریکی حکومت پھر مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے اس ٹیم کو بھاری رقم فراہم کرنے لگی۔ مقصد یہ تھا کہ یہ ماہرین سافٹ ویئر کو بذریعہ تحقیق و تجربات بہتر بناتے رہیں۔ ماہرین نے دسمبر 2006ء میں دی تور پروجیکٹ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم قائم کردی۔ مقصد یہ تھا کہ سافٹ ویئر کو باقاعدہ طریق کار سے برتا جائے۔
آج بھی امریکی حکومت ہی اس تنظیم کو بھاری امداد دیتی ہے تاکہ اونین روٹنگ سافٹ ویئر میں خامیاں دور کی جاسکیں۔اس داستان سے عیاں ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی نے جاسوسی کی اپنی سرگرمیاں پوشیدہ رکھنے کی خاطر اربوں روپے خچ کرکے ایک سافٹ ویئر تیار کیا اور اس کی مدد سے دنیائے انٹرنیٹ میں ایک خفیہ و متوازی گوشہ تخلیق کرلیا۔ عام براؤزر اس گوشے تک رسائی نہیں رکھتے تھے۔ لیکن پھر اپنے مفادات پورے کرنے کے لیے امریکی اسٹیبلشمنٹ وہ سافٹ ویئر مفت تقسیم کرنے لگی۔ بنیادی مقصد یہ تھا کہ اپنی بنائی خفیہ دنیا یعنی ڈیپ ویب میں امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی سرگرمیاں زیادہ پوشیدہ رکھی جاسکیں۔
سافٹ وئیر کی بڑھتی مقبولیت
رفتہ رفتہ دنیا بھر کی حکومتوں کے سرکاری اداروں، بینکوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور دیگر نے ڈیپ ویب میں اپنی ویب سائٹس کھول لیں۔ عام براؤزر ان تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ جلد ہی دولت مند اداروں نے اونین روٹنگ سے ملتے جلتے سافٹ ویئر اور براؤزر تخلیق کرلیے۔ یہ ادارے اپنے ڈیٹا اور کمیونیکیشن نظام زیادہ خفیہ اور ناقابل رسائی بنانا چاہتے تھے۔ 2010ء تک ڈیپ ویب میں باہمی رابطے کی ویب سائٹس بھی کھل گئیں۔ وہاں وسل بلوئر پہنچ کر حکومتوں اور طاقتور شخصیات کے جرائم کا پردہ چاک کرنے لگے۔ اس طرح دنیا بھر کے لوگوں کو ایسا پلیٹ فارم مل گیا جہاں وہ اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر مجرموں کے کرتوت افشا کرسکتے تھے۔
یوں سچائی کی راہ پر گامزن انسانوں کو انکشافات اور اپنے خیالات کے اظہار کی خاطر نیا ہتھیار ہاتھ آگیا۔2011ء میں جب ’’عرب بہار‘‘ کا آغاز ہوا تو مصر، اردن، لیبیا، مراکش وغیرہ میں لوگوں کی اکثریت نے ڈیپ ویب کی کمیونیکیشن ویب سائٹس کے ذریعے ہی ایک دوسرے سے رابطہ رکھا۔ سرفیس ویب میں موجود کمیونکیشن سائٹس تک رسائی پر حکومتوں نے پابندی لگادی تھی۔ غرض یہ ڈیپ ویب کا مثبت روپ تھا جو 2011ء میں سامنے آیا۔ اب نہتے و کمزور عوام ڈیپ ویب کی کمیونکیشن سائٹس کی مدد سے آپس میں رابطہ کرکے آمرانہ و مطلق العنان حکومتوں کے خلاف منظم تحریک چلاسکتے تھے۔
منفی روپ افشا ہوا
آہستہ آہستہ مگر ڈیپ ویب کا منفی روپ بھی افشا ہوا۔ یہ کہ ڈیپ ویب کی خفیہ نوعیت جرائم پیشہ گروہوں کو بہت پسند آئی۔ اس دنیا میں گھومنے والا ہر شخص بے شناخت رہتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون ہے،کہاں سے آیا اورکدھر چلا گیا۔ اسی نوعیت سے جرائم پیشہ گروہوں نے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے مفت دستیاب متعلقہ سافٹ ویئرز کی مدد سے ڈیپ ویب میں اپنی ویب سائٹس کھولیں اور وہاں ہر قسم کا غیر قانونی کاروبار کرنے لگے۔
مثلاً منشیات کی فروخت، اسلحہ بیچنا، فحش فلموں اور رسالوں کا بزنس وغیرہ۔ رفتہ رفتہ ان کا کاروبار پھیلتا چلاگیا اور ان کی ویب سائٹس پر ہر نوعیت کا جرم انجام پانے لگا۔آج ماہرین ڈیپ ویب میں غیر قانونی غیر اخلاقی اور ناجائز سرگرمیوں میں ملوث ویب سائٹس کو ’’ڈارک ویب‘‘ یا ’’ڈارک نیٹ‘‘ کا نام دے چکے۔ ڈیپ ویب کا یہ چھوٹا سا حصہ ہے، مگر خاص طور پر پوری دنیا میں آباد بچوں اور خواتین کے لیے نہایت خطرناک مقام بن چکا۔ اسی حصّے میں پورنو گرافی کا بزنس پھیل رہا ہے اور شیطان صفت مرد پیسے یا نفس کی ہوس پوری کرنے کی خاطر معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانے لگے ہیں۔
عمل کا وقت
اب وقت آچکا کہ تمام ممالک کی حکومتیں سر جو ڑکر بیٹھ جائیں تاکہ ڈارک ویب میں سرگرم تمام ویب سائٹس کا قلع قمع ہوسکے۔ڈارک ویب پوری دنیا میں انسانی معاشرے تباہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے اور اسے ختم کرنا ضروری ہو چکا۔ خاص طور پر امریکی حکومت کو ڈارک ویب کے خلاف بھرپور مہم چلانی چاہیے کیونکہ اس عفریت کی موجد امریکا کی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ اس نے اپنے مفادات پورے کرنے کے لیے جو بظاہر بے ضرر سافٹ ویئر بنایا، وہ اب ایسا خوفناک جن بن چکا جو پوری دنیا میںپھول جیسے نرم و نازک بچوں اور خواتین کو ہڑپ کر رہا ہے۔ ڈارک ویب میں پنپتے خیبیاثہ کاروبار کے باعث ہزارہا بچے اور خواتین اپنے بچپن کی انمول خوشیوں سے محروم ہوگئے اور ان کی زندگیاں اچانک دردناک عذاب میں بدل گئیں۔
امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس وغیرہ سائنس و ٹیکنالوجی کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ ان کے لیے ڈارک نیٹ میں سرگرم پورنوگرافی سمیت تمام مجرمانہ سرگرمیاں انجام دینے والی ویب سائٹس بند کرنا زیادہ بڑا مسئلہ نہیں۔اس سلسلے میں مختلف طریقے اپنانا ممکن ہیں مثلاً عام لوگوں تک ڈارک ویب کے سافٹ وئیر کی رسائی روک دی جائے۔
ان مغربی حکومتوں نے ڈارک ویب کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا، تو یہی سمجھا جائے گا کہ ان ممالک کا حکمران طبقہ اپنے مفادات پورے کرنے کے لیے دنیا بھر کے بچوں و خواتین پہ ہوتے ظلم وستم کو چنداں اہمیت نہیں دیتا۔حد درجے کی یہ سفاکانہ بے حسی وخود غرضی عموماًحکمرانوں سے مخصوص سمجھی جاتی ہے۔مذید براں زیادتی کرنے والے مجرموں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔فی الوقت انھیں دی گئی سزائیں بہت ہلکی ہیں۔مثلاً سہیل برطانیہ اور اٹلی میں صرف چار سال بعد ہی رہا ہو گیا۔ایسے مجرم تو ساری عمر جیل کی چکی پیسیں تب بھی یہ سزا کم ہے۔
Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں