مائنس عمران خان فارمولا ۔۔۔کون کون حامی ۔۔؟ جانیں ۔۔۔۔۔۔

مائنس عمران خان فارمولے کا حامی کون؟

اپوزیشن ، حکومتی اتحادی سمیت تحریک انصاف کے اپنے لوگ عمران خان سے تنگ آچکے ہیں،سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر دانش

لاہور(اہم نیوز ) سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر دانش نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرا م میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے لوگ عمران خان سے تنگ ہیں۔ تفصیل کے مطابق ڈاکٹر دانش نے کہا ہے کہ یہ بات سچ ہے کہ عمران خان سے تحریک انصاف کے کچھ لوگ، اپوزیشن تنگ ہیں۔ انہوں نے مزید کہ حکومت کے اتحادیوں کے بھی عمران خان کے ساتھ اختلافات بڑھتے چلے جار ہے ہیں۔ مائنس ون فارمولا پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر دانش نے کہا اگر سب ہی عمران خان سے بطور وزیراعظم تنگ ہیں تو عمران خان کی جگہ کوئی اور وزیراعظم کیوں نہیں آسکتا؟ ڈاکٹر دانش کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد لانا ایک قانونی اور جمہوری عمل ہے۔

تاہم اس سے اپوزیشن کو روکا نہیں جا سکتا۔پروگرام میں شامل تحریک انصاف کے رہنما صداقت علی عباسی نے ردعمل دیا کہ سب مخالف اسی لئے ہیں کہ عمران خان نے ماضی میں ہونی والی کرپشن کا حساب مانگا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے آنے سے پہلے سابق حکمرانوں کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ۔  یاد رہے کچھ دن قبل سے  ان ہاوس چینج کی باتیں سرگرم ہیں۔ واضح رہے اس سے قبل بھی ڈاکٹر شاہد مسعود نے تحریک انصاف کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ خبر ہے پاکستان تحریک انصاف کے 20 سے 25 اراکین اسمبلی ایسے ہیں جو وزیراعظم عمرا خان کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں۔
اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوتی ہے تو پاکستان تحریک انصاف کے کئی اراکین اسمبلی عمران خان کے خلاف جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ قوم اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 20 سے 25ایسے رہنما ہیں جو وزیراعظم عمران خان کے حق میں نہیں جائیں گے۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا تھا کہ عمران خان بے شک اس حوالے سے تحقیقات کروا لیں۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں میں اتحادیوں کا شمار نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف پی ٹی آئی کے رہنما ہیں،اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوتی ہے تو کسی پی ٹی آئی رہنما کے پیٹ میں درد ہو گا۔
Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں