وردی میں ہر انسان کو معزز سمجھا جاتا ہے۔تحریر اسامہ تاج

وکلاء اور ڈاکٹر کا جھگڑا

تحریر اسامہ تاج

لاہور میں وکلاء برادری کے واقعے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں.واقعے کا مقام حساس تھا ہرگز ایسا واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا
پاکستان میں وردی کو اعلی سمجھا جاتا ہے چاہے وہ پولیس کی وردی ہو’ آرمی کی وردی ہو , ڈاکٹر کی وردی ہو, وکیل کی وردی ہو یا پھر سکول کی وردی ہو
وردی میں ہر ایک انسان معزز سمجھا جاتا ہے.وردی کی وجہ سے جانا پچہانا جاتا ہے اور وردی ہی اس کی عزت و آبرو ہوتی ہے .اسے اچھے اخلاق اپنے ہی طبقے میں اعلی مقام تک پہنچا دیتے ہیں تاریخ اس بات کی شاہد ہے دو وردیاں ہی ملک کا ستون ہیں ایک وردی ملک میں بے ضابطگیوں کو روکتی ہے قانون توڑنے والوں کو پکڑ کر عدالت لاتی ہے جہاں سے کوٹ والی وردی کا امتحان شروع ہوتا ہے وہ وردی اس کو کیفکردار تک پہنچاتی ہے دونوں کو جسم کا بازو سمجھا جاتا تھا مگر بدقسمتی سےدونوں بازوں گزشتہ کچھ سال سے اپنی وردیوں میں ایک خاص قسم کا تنازعہ لیے ہوے ہیں اور یہ روزبروز بڑھتا چلا جا رہا ہے کسی فردواحد میں اصطلاحی جرت نہیں کہ وہ ان کے معاملات کو خوش اسلوبی سے منتقی انجام تک پہنچاے جہاں زاتی معاملات حل کرواے جاتے ہوں تو وہاں بیرونی مداخلت ضرور ہوتی ہے ہمارے دشمن تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ ہم اندرونی معاملات میں الجھے رہیں اور وہ خود فاہدہ اٹھاہیں
لاہور میں ہونے والے واقعے کی تحقیقات سے پہلے ہی ہمارے اپنے ہی لوگوں نے غیر زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے آگ پر مزید تیل پھنکا جو ہماری وردی(کالے کوٹ) پر بدنما داغ بن گیا اس داغ کو مٹانے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ چند دن پہلے تک کی تاریخ کو پڑھنا ہو گا.یقینا 21 تاریخ یعنی اج سےباہیس دن پہلے لاہور کے اسی ہسپتال میں گرمی سردی ہوہی اور ساتھ ایک بڑا ہنگامہ اختیار کر گی وہاں پر موجود وکلاء خون سے بھر گے جو آج کا اختتام تھا اس مسلے کو ختم کرنے کے بجاے اس کے زور کو ہلکا تو کر دیا تھا مگر گزشتہ رات پھر ڈاکٹروں کے خون نے جوش پکڑا تو ان نے ایک ویڈیو بیان میں (دشتگردوں کی طرح) للکارا تو وکلاء تنظم بھی تعش میں آگی. ویڈیو آگ کی طرح پھلی تو وکلاء عزت نفس کے لیے جوش میں ہوش بھول گے صبح ہوتے ہی وکلاء جمع ہوے احتجاج کے لیے نکل پڑے مظاہرے مختلف جگہ سے ہوتے ہو لاہور کے کاڈیالوجی ہسپتال میں تک پہنچے اور ہنگامہ شروع ہو گیا بہت سارے وکیل اس کی زد میں آے معاملے کو حل کرنے کیلیے آنے والے فیاض الحسن چوہان کو بھی وکلاء نے آڑے ہاتھوں لیا بات وزیراعلی اور وزیراعظم تک چلی گی .اب فیصلہ اعلی سطح پر ہو گا اس اعلی سطح کے اجلاس میں شامل ہر وزیر کو اپنی راے کا یقینی حق حاصل ہو گا اس اجلاس میں شامل یقینی طور پر حادثے میں نشانہ بننے والے فیاض الحسن چوہان بھی ہوں اس صورتحال میں ان کا بیان بھی لیا جاے گا جس کا ثبوت کل کی ویڈیو سامنے ہے برحال جو بھی فیصلہ ہو گا وہ وزیراعظم کا فیصلہ سمجھا جاے گا اس بات کی تشویش ہے اگر وکلاء عدالت میں پیش نہیں ہوں گے تو انصاف کا عمل رک جاے گا آج ملک بھر کی تمام کونسل بار اور وکلاء نے عدالتی باہیکاٹ کا اعلان کیا اور اس پر حقیقی عمل کیا
سوچنے کی بات ہے کہ قانون کا کیا ہو گا انصاف کس طرح ملے گا اس مسلے کو بہت سنجدگی کے ساتھ ختم کرنا ہو گا تاکہ وکیل ہرتال کو ختم کریں اور قانون پر عمل کا سلسلہ شروع ہو جاے بلکہ ایسا نہ ہو کے ڈاکٹر کی طرف سے اس مسلے کا آغاز شروع ہو جاے
وکلاء کو اپنا کیس کا دفاع میڈیا پر آکر کرنا پڑے گا. آن دی میڈیا آکر اپنے پر لگے اس بدنما داغ کو مٹانے کی کوشش کریں اپنی محنت کوشش خدمت اور امن کا دامن تھام کر اس مسلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں تاکہ اپنی عزت وآبرو برقرار رکھ سکیں اور ملک میں انصاف کا یکساں نظام برقرار رکھا جا سکے ملک کے حالات صیح ہوں گے تو ملک چلے گا

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں