سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت دینے اور ڈی چوک پر لٹکانے کے عدالتی ریمارکس پر سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے بھی رد عمل آ گیا۔مذید جانئے

لندن (اہم نیوز) نواز شریف کا پرویز مشرف کی پھانسی کی سزا کے فیصلے پر پہلا باقاعدہ ردعمل، حسین نواز کا کہنا ہے کہ والد کا کہنا ہے کہ سابق صدر مملکت کی سزا کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے، اس معاملے پر ن لیگ کی خاموشی کوئی سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لندن میں موجودہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے سابق صدر و آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی پھانسی کی سزا کے عدالتی فیصلے پر باقاعدہ ردعمل دیا ہے۔
اس حوالے سے نواز شریف کے صاحبزادی حسین نواز کا بتانا ہے کہ میاں صاحب نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ حسین نواز کا پرویز مشرف کی سزا کے معاملے پر مسلم لیگ ن کی خاموشی کے حوالے سے کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ ایک سیاسی حکمت عملی ہو۔
اس سے قبل گزشتہ روز اس حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پرویزمشرف کے حوالے سے فیصلہ ابھی میں نے پڑھا نہیں۔ عدالتی فیصلہ تفصیل سے پڑھنے کے بعد اس پر رائے دے سکوں گا۔

نوازشریف کو پرویزمشرف کے فیصلے کے بارے میں ابھی نہیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے دل کے کچھ ٹیسٹ ہوئے ہیں، ان کا پیرکو پی ای ٹی اسکین ہوگا۔ شہبازشریف نے کہا کہ میرے خلاف کرپشن ثابت ہوتی تو نیب ثبوت سپریم کورٹ میں پیش کرتی۔ پاکستان کی خدمت کے بدلے میں ہمیں جو بھی تکلیف اٹھانی پڑی اٹھائیں گے۔ واضح رہے خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، 169 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جسٹس نذر اکبر کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد فضل کریم نے سزائے موت سنائی جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نذر اللہ اکبر نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کی ٹیم غداری کا مقدمہ ثابت نہیں کرسکی. تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ جنرل پرویز مشرف نے سنگین غداری کے جرم کا ارتکاب کیا، ان پر آئین پامال کرنے کا جرم ثابت ہوتا ہے اور وہ مجرم ہیں، لہذا پرویزمشرف کو سزائے موت دی جائے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں گرفتار کرکے سزائے موت پرعملدرآمد کرائیں۔ اگر پرویز مشرف مر بھی جائیں تو لاش ڈی چوک لا کر تین دن تک لٹکائی جائے۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کو دفاع اور شفاف ٹرائل کا پورا موقع دیا گیا، 2013 میں شروع ہونے والا مقدمہ 2019 میں مکمل ہوا، کیس کے حقائق دستاویزی شکل میں موجود ہیں. عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اس وقت کی کورکمانڈرز کمیٹی کے علاوہ تمام دیگر وردی والے افسران جنہوں نے انہیں ہر وقت تحفظ فراہم کیا وہ ملزم کے اعمال اور اقدام میں مکمل اور برابر کے شریک ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ مفرور، مجرم کو پکڑنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں اور اسے یقینی بنائیں کہ انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے اور اگر وہ وفات پاجاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر اسلام آباد میں ڈی چوک پر لایا جائے اور 3 دن کے لیے لٹکایا جائے۔

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں