ثاقب نثار چھوٹا آدمی تھا جسے بڑی کرسی پر بٹھا دیا گیا تھا ۔جس کا اپنا کردار مشکوک تھا۔ مذید جانئے

اسلام آباد(اہم نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس (ر) ثاقب نثار پر طنز و تنقید کے تیر برسا دیئے۔ ایک ٹی وی چینل کے انٹرویومیں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ جوڈیشل ایکٹو ازم نہیں، بلکہ ایڈونچر ازم نہیں ہے۔ یہی ثاقب نثار کرتا تھا۔ لیکن ایک چھوٹا انسان جس کا اپنا کردار مشکو ک ہے، جس کا اپنا اخلاق مشکوک تھا۔

بدقسمتی سے اُس کُرسی پر بٹھا دیا گیا ۔ اُس نے جتنے بھی فیصلے چار پانچ ماہ کے دوران کیے، آپ اب ذرا اُن کی صورتِ حال کو دیکھ لیں۔ اور جو اداکاری وہاں پر کرتا تھا، سپریم کورٹ کے اندر میڈیا کو بٹھا، تاکہ اُس کا قد وزیر اعظم عمران خان سے بڑا نظر آئے، تاکہ وہ بڑا طاقتور نظر آئے۔



واضح رہے کہ اس سے قبل سی ای او پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر سعید اختر نے بھی سابق چیف جسٹس پر الزامات عائد کیے تھے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ثاقب نثار جب چیف جسٹس تھے تو مجھے خاندان والوں کے سامنے کہنے لگے تمہارے خلاف سوموٹو لوں گا کیونکہ میرے بھائی کو تم سے کم تنخواہ ملتی ہے۔ ڈاکٹر سعید اختر نے کہا ہے کہ ثاقب نثار نے کہا کہ جب میرا بھائی ایک لاکھ 35 ہزار روپے تنخواہ لیتا ہے تو آپ نے باہر سے آنے والے ڈاکٹروں کو کیسے دس لاکھ روپے کی آفر کی؟ تفصیلات کے مطابق سی ای او پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر سعید اختر نے بتایا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات میں جب انہوں نے ثاقب نثار کو پی کے ایل آئی کے بارے میں بتایا تو وہ اچانک غصے میں آ گئے تھے، چیف جسٹس کے بھائی نے ان سے کہا کہ بھائی جان ان سے پوچھیں کہ ان کو 20 ارب روپے کس بات کے ملے ہیں۔
ڈاکٹر سعید اختر کے مطابق یہ بات انکے لیے بہت زیادہ غیر معمولی تھی، انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ مجھے توکوئی بیس ارب روپے نہیں ملے، ایک ادارے کیلئے وزیرِ اعلیٰ نے بیس ارب روپے متعین کیے ہیں۔ ڈاکٹر سعید نے مزید بتایا ہے کہ پھر جسٹس ثاقب نثار کے بھائی نے اپنے جسٹس ثاقب نثار سے کہا کہ بھائی جان یہ آٹھ سے دس لاکھ روپے تنخواہ لے رہے ہیں، میں نے کہا کہ جن ڈاکٹروں کو میں لے کر آیا ہوں ان میں سے کوئی پانچ لاکھ اور کوئی دس لاکھ ڈالر کماتا تھا یہ دس لاکھ روپے ان کی ایک دن کی تنخواہ تھی، یہ لوگ دس لاکھ روپے کیلئے نہیں بلکہ ایک جذبے کی خاطر پاکستان آئے ہیں تو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار غصے میں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ میرا بھائی ایک لاکھ 35 ہزار روپے تنخواہ لیتا ہے تو آپ نے کیسے ان ڈاکٹروں کو دس لاکھ روپے کی آفر کی؟ ڈاکٹر سعید کے مطابق انہوں نے جواب میں کہا کہ ضرور ایک لاکھ 35 ہزار روپے تنخواہ لیتے ہوں گے لیکن وہ شام کو پرائیوٹ پریکٹس کرتے ہیں جس میں وہ اچھے پیسے بنا لیتے ہیں لیکن ہمارے ڈاکٹر ز ادارے کے باہر کوئی پریکٹس نہیں کر سکتے بس وہاں سے چیف جسٹس غصے میں آ گئے اور کہا کہ میں آپ کے خلاف سو موٹو نوٹس لوں گا اور آپ لوگوں کو دیکھ لوں گا، انہوں نے کہا کہ فورا چیف سیکریٹری کو بلاوٴ جس کے بعد ہیلتھ سیکریٹری کو بلایا گیا یہ وہ وقت تھا جب میں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں معذرت کر لینی چاہیے۔
Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں