سندھ(خالدشاہ)مقدمہ کے عدم اندراج یا تاخیری حربے ناقابل برداشت ہیں ۔سید کلیم امام

سندھ(خالدشاہ)سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر سندھ بھر میں قائم39 پولیس کمپلینٹ سیلز مصروف عمل ہیں۔آئی جی سندھ*

*ایف آئی آرز کا عدم اندراج یا تاخیری حربے ناقابل برداشت ہیں۔ڈاکٹرسیدکلیم امام*

*آئی جی سندھ کی ذیر صدارت اعلی سطحی ویڈیو کانفرنسنگ اجلاس۔*

کراچی17مارچ2019:

آئی جی سندھ نے کہا کہ تھانہ جات سے اپنے مسائل/مشکلات کے اذالوں کے لیئے رجوع کرنیوالے شہریوں کو کیسز/ایف آئی آرز کے اندراج میں پس وپیش،تاخیری حربوں سے کام لینے والے یا واضح انکار کرنیوالے پولیس افسران و دیگر اسٹاف کی محکمہ پولیس میں کوئی گنجائش نہیں ہے انکا اپنے گھر جانا یقینی ہوجائیگا۔

آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام سی پی او میں *عوامی شکایات اذالہ میکنزم* کے حوالے سے ایک اعلی سطحی ویڈیو کانفرنسنگ اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔اجلاس میں سابقہ آئی جی طارق کھوسہ کے علاوہ تمام ایڈیشنل آئی جیز،ڈی آئی جیز،ضلعی ایس ایس پیز سمیت سی پی او کے تمام افسران بھی موجود تھے۔

اس موقع پر اجلاس کو صوبائی سطح پرعوامی شکایات اذالہ میکنزم کے تحت جاری جملہ امور واقدامات سمیت مفاد عامہ کی ترجیحات پر مشتمل تفصیلات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں اسوقت سندھ پولیس رینج/ڈسٹرکٹس میں 39 عوامی شکایات اذالہ سیلز باقاعدہ مصروف عمل ہیں اورایس ایس پیز/ڈی ایس پیز رینک کے افسران تفویض کردہ ذمہ داریوں کو بطریق احسن انجام دے رہے ہیں۔

آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ لوگوں کے مسائل مشکلات کے اذالوں یا جرائم سے متاثرہ شہریوں کی ایف آئی آرز کے اندراج میں تھانہ سپروائزری افسران ایسا ہرگز نہ سوچیں کہ کرائم گراف بڑھے گا یا انکی کارکردگی پر کوئی حرف آئیگا جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کے لیئے کیسز کا اندراج اور مؤثر تفتیش وقت کا تقاضہ ہے۔یہ گمان کرنا کہ شکایات کیا ہے کیوں ہے اور کس کے خلاف ہے کہ بجائے ہر شکایات پر ایف آئی آر لازماًدرج کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ میکنزم ناصرف سی پی او سے منسلک ہوگا بلکہ جلد ہی اس سسٹم کو جوڈیشری سےآن لائن کرنے کے اقدامات اٹھائے جائیں گے جسکا مقصد درج شکایات پر تھانہ جات کی کاروائی کا احاطہ کرنا اور متعلقہ عدالتی اقدامات کو مؤثر اور مربوط بنانا ہے۔آئی جی سندھ نے مذید کہا کہ جوڈیشری بھی ہمارا حصہ ہے لہذا پولیس کو وکلاء برادری/جوڈیشری کو ساتھ لیکر آگے بڑھنا ہوگا جس سے بلاشبہ جرائم کے خلاف مجموعی اقدامات ناصرف مؤثر ہونگے بلکہ نتیجہ خیز بھی ثابت ہونگے۔

ان کا کہنا تھا کہ قائم کردہ عوامی شکایات اذالہ سیلز سی پی او سے سینٹرلائزڈہونگے اور انھیں کمپیوٹرز بھی فراہم کردیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی سطح پر قائم عوامی شکایات اذالہ سیلز کے مجموعی امور سے آگاہی کے لیئے پرنٹ/الیکٹرانک/سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا جائے کیونکہ فی زمانہ میڈیا عوام تک رسائی/شعور آگاہی کے حوالے سے ایک طاقتور اور مؤثر ذریعہ ہے۔

ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ عوامی شکایات اذالہ میکنزم پر مشتمل اردو اور انگریزی زبانوں پر مشتمل ایس او پیز باقاعدہ ترتیب دیکر رینج/زونز/ڈسٹرکٹس کو ارسال کیئے جاچکے ہیں۔

سابقہ آئی جی طارق کھوسہ نے کہا کہ معمولی نوعیت،تنازعات گھریلو جھگڑے وغیرہ جیسے قابل ضمانت کیسزمیں لوگوں کو حراست میں رکھنے کے بجائے پولیس رولز کو سامنے رکھتے ہوئے انھیں ضمانت پر چھوڑ دیا جائے جسکا مقصد عدالتوں پر کیسز کے حوالے سے ممکنہ دباؤ میں خاطرخواہ کمی لانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی شکایات اذالہ میکنزم کے قیام کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے احکامات تمام صوبوں کی پولیس کے لیئے تھے تاہم سندھ پولیس اس میکنزم کے قیام اور عمل داری کے حوالے سے ناصرف سرفہرست ہے بلکہ ملکی سطح پر لیڈنگ کردار بھی محکمہ پولیس سندھ ہی ادا کررہا ہے۔کیونکہ دیگر تینوں صوبوں اور وفاق نے اس میکنزم کی ترتیب کا ٹاسک سندھ پولیس کو دیا تھے جس پر سندھ پولیس نے ہی سفارشات ترتیب دیکر سپریم کورٹ کو پیش کی تھیں۔لہذا ایسی صورت میں سندھ پولیس پر مذید ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس نظام پر عمل داری کو بطور قائد ناصرف یقینی بنائے بلکہ دیگر صوبوں کے لیئے بھی اس حوالے سے ایک مثال قائم کرے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی پولیس سے توقعات ہیں اور وہ کسی بھی مشکل گھڑی میں آپ ہی کی طرف دیکھتے ہیں لہذا اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو ایک عبادت سمجھ کر انجام دیں۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں