ذرا سنھبل کر …………

اگر آپ کو پڑھانے کا شوق ہو اور آپ کسی چھوٹی موٹی نہیں بلکہ ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھانے کا خواب دیکھتے ہوں، اور اگر راہ چلتے آپ سے کوئی کہے کہ یار کل سے آجانا، ہارورڈ میں ٹیچر کی جگہ خالی ہے، تو ذرا احتیاط سے کام لیجیے گا، پہنچ مت جائیے گا۔
اس کی دو وجوہات ہیں۔

ایک تو یہ کہ ہارورڈ کا شمار دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے اس لیے وہاں پڑھانے کے لیے آپ کے پاس وہ تعلیمی لیاقت اور تجربہ ہونا چاہیے جو نامعلوم کیوں اس طرح کی یونیورسٹیاں اکثر مانگتی ہیں۔
اور دوسرا یہ کہ جب تک آپ نے نوکری کے لیے اپلائی نہ کیا ہو اور اس کے باوجود کوئی آپ کو نوکری کی پیش کش کرے، تو آپ کا ماتھا ٹھنکنا چاہیے،

آپ کے ذہن میں یہ سوال تو اٹھنا ہی چاہیے کہ ’آخر میں کیوں‘، مجھ میں ایسا کیا ہے کہ گھر بیٹھے مجھے نوکری دی جا رہی ہے جبکہ پڑھانے کا مجھے بالکل تجربہ نہیں ہے؟

آپ سوچیں گے کہ بھائی اتنا سیدھا کون ہوتا ہے؟ مختصر جواب یہ کہ بہت لوگ اور ان میں ندھی رازدان بھی شامل ہیں۔

ندھی کا شمار انڈیا کے سرکردہ صحافیوں میں ہوتا ہے۔ 21 برس انہوں نے این ڈی ٹی وی میں کام کیا اور پھر گزشتہ برس ایک دن اچانک ٹوئٹر پر یہ اعلان کیا کہ وہ اب ہارورڈ میں صحافت پڑھائیں گی۔

کئی مہینے یوینورٹی کے نام نہاد اہلکاروں سے ای میل کے ذریعہ خط و کتابت ہوئی،

انہوں نےسمجھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے لیکن جب ہارورڈ سے نہ تنخواہ آئی اور نہ کلاسز شروع ہوئیں تو آخر کار انہیں لگا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔

انہوں نے یونیورسٹی سے براہ راست رابطہ کیا اور معلوم ہوا کہ نوکری کی کوئی پیش کش کبھی کی ہی نہیں گئی تھی۔

اب ندھی یہ صفائی دے رہی ہیں کہ کیسے انہیں ایک آن لائن سکیم کا شکار بنایا گیا۔
ہماری ہمدردی ان کے ساتھ ہے بھی اور نہیں بھی۔

ہمدردی اس لیے ہے کہ وہ ان مٹھی بھر صحافیوں میں سے ایک ہیں جو اب بھی واقعی صحافت کرتے ہیں، باقی کا حال تو آپ کو معلوم ہی ہے، لیکن ہمدردی جتانے میں جھجھک اس لیے ہوتی ہے کہ ایک صحافی جسے پہلا سبق ہی یہ سکھایا جاتا ہے کہ آنکھ بند کر کے کسی کی بات پر بھروسہ مت کرو، اکیس سال کے تجربے کے بعد ایسے سکیم میں کیسے پھنس سکتا ہے؟
ندھی کو لگا کہ وہ سینیئر صحافی ہیں،

اگر انہیں یہ پیش کش کی جار ہی ہے تو یہ ان کے صحافتی تجربے اور شہرت کا اعترف ہے۔ لیکن اب انہوں نے جو تفصیلات بتائی ہیں ان سے سے لگتا ہے کہ وہ اسی طرح کے لاٹری سکیم کا شکار ہوئی ہیں جن کے بارے میں ہم سبھی کے پاس اکثر ای میل آتی رہتی ہیں۔

’ہمارے لکی ڈرا میں آپ کامیاب رہے ہیں، آپ دو ملین پاؤنڈ جیت گئے ہیں، رقم ٹرانسفر کرنے کے لیے اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات ہمیں بھیج دیجیے۔۔۔‘
اور پھر آپ سے رقم اینٹھنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
اس لیے اگر فون یا ای میل پر اس طرح کا پیغام آئے،

اگر کوئی کہے کہ آپ کے ایک رشتہ دار بیسویں صدی کے اوائل میں افریقہ چلے گئے تھے اور اب ان کا انتقال ہو گیا ہے، اور آپ ان کی اربوں کی دولت کے وارث ہیں تو اپنے بینک کھاتے کی تفصیلات فوراً ای میل کرنے سے پہلے ایک بار ندھی رازدان کے بارے میں ضرور سوچ لیجیے گا، ہوسکتا ہے کہ آپ کو صحیح راستہ نظر آجائے۔
دوسری کہانی بھی ایک صحافی کے بارے میں ہے۔

ارنب گوسوامی ریپبلک ٹی وی کے سوپر باس ہیں۔ ٹی آر پی ریٹنگز ماپنے والے ادارے ’بارک‘ کے سابق سربراہ سے واٹس ایپ پر ان کی بات چیت آج کل وائرل ہو رہی ہے۔

https://www.facebook.com/Ahem-News-international-102190218180596/

ارنب کے چینل کو دھوکہ دہی کے ذریعے ٹی آر پی بڑھانے کے الزام کا سامنا ہے اور اس کیس میں وہ ضمانت پر رہا ہیں۔ مہارشٹر کی پولیس نے بارک کے ایک سابق سربراہ کو گرفتار کر کے واٹس ایپ پر ارنب سے ان کی بات چیت کی تفیصلات اپنی فرد جرم میں شامل کی ہیں۔
یہ بات چیت ہوش ربا ہے۔

بس اتنا جان لیجیے کہ ارنب کو یہ بھی معلوم تھا کہ انڈین حکومت پلوامہ حملے کے جواب میں ایک بڑی کارروائی کرنے والی ہے، حالانکہ یہ ایک انتہائی خفیہ پلان تھا جسے آخری لمحوں تک صیغہ راز میں رکھا گیا۔

اور پلوامہ پر حملے میں 40 جوانوں کی ہلاکت کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ اس کہانی میں (ٹی آر پی کی دوڑ میں) ہم نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا (وی ون لائک کریزی)۔
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا! یہ چینل صبح سے شام تک کسی کو دیش پریم اور کسی کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتا ہے۔ بات چیت پڑھنے سے تو لگتا ہے کہ اگر کوئی بھی کام کرانا ہو، چاہے عدالتوں میں یا پھر وزیراعظم کے دفتر میں، تو ادھر ادھر دھکے کھانے سے اچھا ہے کہ سیدھے ارنب سے ہی بات کی جانی چاہیے۔

ویسے تو صحافیوں کا یہ ہی کام ہوتا ہے کہ وہ خبر ڈھونڈ کر لائیں لیکن بات چیت میں جس طرح کے دعوے ارنب سے منسوب کیے گئے ہیں، انہیں پڑھ کرتو لگتا ہے کہ وہ جس کام میں بھی مشغول ہیں، اس کا صحافت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

ندھی رازدان اور ارنب کی کہانیاں مختلف ہیں۔ دونوں کے مزاج اور انداز میں دن رات کا فرق ہے۔ ندھی سے حماقت ہوئی اور وہ اس کا اعتراف کر رہی ہیں۔ ان کی ’معصومیت‘ سے صرف ان کی صحافتی ریپوٹیشن تباہ ہوئی ہے۔
ارنب اور ان کے چینل کو جن الزامات کا سامنا ہے

ان سے بہت سے لوگوں کا یہ شک یقین میں بدلے گا کہ میڈیا کا ایک حصہ حکومت کے ایجنڈے کو فروغ دینے میں لگا ہوا ہے۔
اور یہ انڈیا میں صحافت کے لیے بری خبر ہو گی۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں