کیا پاکستان میں جمہوریت ہے ؛ تحریر چوہدری محمد اشرف نوید

————جمہوریت ————–
حاکمیت صرف اللہ سبحان تعالیٰ ہے ؛ اس میں کسی شک کی گنجائیش نہیں ؛
ملکوں میں تین طرح کے نظام رائج ہیں ؛ جو درج ذیل ہیں۔
(نمبرایک ) صدارتی نظام ؛ (نمبر دو)جمہوری نظام ؛ (نمبر تین)بادشاہت ۔۔۔
صدارتی نظام میں طاقت کا محور صرف ایک شخص ہوتا ہے ؛ امریکہ کا نظام اس کی مثال ہے ۔ جب ٹرمپ جیسا بندہ صدر بنا تو اس نے کیسے کیسے مسخرانہ کام کئے چونکہ اسکے پاس طاقت تھی اس لئے ؛ مودی سے لیکر عمران خان تک (جو ایک دوسرے کے سخت مخالف تھے) اس کی جے جے کار کرتے تھے ۔
اسی طرح بادشاہت کا نظام چلتا ہے فرق صرف اتنا ہے صدارتی نظام میں صدر قانون کے تابع ہوتا ہے جبکہ بادشاہ خود کو قانون سمجھتا ہے ۔ بادشاہت نسل در نسل چلتی ہے۔
———جمہوری نظام——-
اس نظام کا فارمولا ہے ؛ حکومت عوام کیلئے ؛ عوام کے ذریعہ سے؛
یعنی طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں ۔کیا جمہوری عمل شریعت کے مطابق درست ہے یا کہ غلط یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔کیا پاکستان میں حقیقی جمہوریت ہے کہ نہیں یہ اصل موضوع ہے۔
پاکستان کا متفقہ آئین سیاست دانوں نے ترتیب دیا مگر آئینی دستاویز میں کہیں نہیں لکھا کہ حتمی دستاوزیز ہے۔بلکہ آئینی دستاویز میں تبدیلی کیسے ہوگی یہ بھی درج ہے۔آئین پاکستان میں اداروں کے حدود و قیود بھی درج ہیں۔
ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کے پابند ہیں۔جمہوری قوتوں نے نظام تو بنایا مگر اس پر سو فیصد عمل نہ کر سکیں۔پاکستان میں فیلڈ مارشل ایوب خان سے لیکر سابق صدر جنرل ر پرویزمشرف تک کی داستانیں گواہ ہیں کہ کیسے جمہوریت پامال ہوئی ؛مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ انہیں غیر جمہوری حکومتوں میں عام عوام کے مسائل حل ہوئے؛
غیر جمہوری لوگ بلدیاتی ادارے نہیں توڑتے بلکہ ریفام کر کے بلدیاتی الیکشن کروا کر عوام کو حق حکمرانی دیا۔
آج کے حالات ہمارے سامنے ہیں پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو آئینی مدت پوری کرنے سے عملی طور پر روکا گیا۔کیس مملکت پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں گیا پھر جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔اگر یہ کیس اسلامی فلاحی ریاست کے قاضی کے پاس ہوتا تو ایک دن میں فیصلہ ہو جانا تھا۔مملکت پاکستان میں عدلیہ کے کردار پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
جسٹس ر نسیم حسن شاہ ؛ ملک عبدالقیوم کی مثالیں سب کے سامنے ہیں۔
آج PTI کی حکومت ہے جو تبدیلی کا نعرہ لیکر آئی مگر خود تبدیل ہو گئی۔عمران خان کے سابقہ بیانات انکے آج کے عمل کی نفی کرتے ہیں ؛ہم آج عوامی مسائل پر نہیں بلکہ سینیٹ الیکشن پر ہی رہیں گے۔
سینیٹ کا الیکشن ہو یا نہ ہو عوام کو کیا فرق پڑتا ہے ؟
چونکہ عوام کا اس انتخاب سے کسی قسم کا تعلق نہ ہے
اس الیکشن میں MPA ؛MNAووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔اس الیکشن کی خاص بات اعلی تعلیم یافتہ ؛ مختلف شعبوں کے ماہرین کو سیاسی عمل کا حصہ بنانا ہوتا ہے۔یہ ایک اخلاقی پہلو ہے
بدقسمتی سے مملکت پاکستان کا سینیٹ بھی اب متناذعہ شخصیات کا حامل ہے۔سینیٹرز پر الزام ہے کہ وہ ووٹ خرید کر منتخب ہوئے
خرید و فروخت کا یہ سلسلہ کب سے جاری ہے اسکا درست علم تو اللہ سبحان تعالیٰ کے پاس ہے مگر 2018 کے الیکشن میں چوہدری سرور کا منتخب ہونا PPP کے متناسب نمائندگی سے ذیادہ ووٹ لینا اور پھر ایک وڈیو نوٹوں والی کا موجود ہونا سب کے سامنے ہیں۔بجائے اس کے کہ عدالت سوموٹو ایکشن لے ان خریداروں اور فروخت ہونے والے ممبران کو کٹہرے میں کھڑا کرے اس بات پر ہو رہی ہے کہ ووٹ خفیہ یا اعلانیہ ؛
کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کو روکنا قانون پر عمل درآمد سے ممکن ہے۔جو لوگ ووٹ خرید کر ممبر سینیٹ بنتے ہیں کیا ان کے خلاف قانون کے پاس راستہ ہے کہ نہیں ؛ ووٹ خریدنے والے نے کیا دفعہ 62-63 کی خلاف ورذی کی کہ نہیں۔
جو سزا جزا دینی ہیں کریمنلز کو دیں اس دستاویز کو متناذعہ مت بنائیں۔ووٹ کا مقصد اپنے ضمیر کا درست یا غلط استعمال ہے۔کچھ لوگ ضمیر فروش اور کچھ ضمیروں کے خریدار ہوتے ہیں جب ایسے لوگ سینیٹ یا اسمبلیوں آئیں گے تو کیسے پاکستان سے محبت اور وفاداری کریں گے ایک شخص پارٹی کا وفادار نہیں تو ریاست کا وفادار کیسے ؟دوسری بات جب ووٹ ضمیر کی آواز ہے تو ووٹ کاسٹ کرنے پر قذغن کیوں؟
جس ممبر اسمبلی کو جو امیدوار درست لگے اسکو ووٹ کاسٹ کرے جمہوریت میں پابندی درست نہیں.
اگر الیکشن نہیں سلیکشن کرنی ہو تو متناسب نمائندگی والا فارمولا درست ہے ؛
اس ملک کی جمہوریت میں منتخب نمائندہ اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ کاسٹ کرسکتا تو پھر اس عمل کو آپ جمہوری کیسے کہہ سکتے ہیں۔؟دوسری اور آخری بات پارلیمنٹ کا بنایا گیا قانون سب کو سمجھ میں آنا چاہئے ایسے قوانین جس کی تشریح عدلیہ کو کرنی پڑے خود پارلیمنٹ اور پارلیمنٹرین کی عزت کو دوسرے ادارے کے سپرد کرنے کے مترادف ہے۔اگر کوئی دن ایسا آ گیا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ آمنے سامنے آ گئے تو پھر کیا ہو گا ؟ قانون بنانے والے اور اسکی تشریح کرنے والے دونوں کی لڑائی میں جیت تشریح کرنے والے گروپ کی ہو گی۔اسکی ذندہ مثال میاں نوازشریف اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی شکل میں موجود ہیں۔ایسے میں پارلیمنٹ سپریم ادارہ کیسے۔۔۔۔؟کیا یہ جمہوریت کی نفی نہیں ؟

آئین میں تبدیلی کا طریقہ کار موجود ہے آئین سے کھلواڑ ملک کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
اللہ سبحان تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے ۔ آمین
تحریر ؛؛؛؛ چوہدری محمد اشرف نوید
farooqia440@gmail.com

0306-7503595


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں