طویل جنگ ؛ تحریر ؛ڈاکٹر تصدق حسین ایڈوکیٹ

ایک طویل جنگ

کہکشائوں سے
ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ

ہر سیاسی جماعت اپنی پالیسی اور لائحہ عمل طے کرنے میں آزاد ہے، اگر پی ڈی ایم ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرتی ہے تو یہ قوم اور ملک کے لئے بہت بہتر ہوگا۔اور اگر تمام جماعتیں الگ الگ راہوں سے منزل کی طرف روانہ ہوتی ہیں تو یہ بھی کسی کا درد سر نہیں ہونا چاہیئے۔
اسی طرح استعفوں کے بارے میں بھی مختلف رائے ہو سکتی ہیں، اگر مستعفی ہونے سے الیکٹرول کالج ٹوٹتا ہے اور نئے انتخابات کی راہ ہموار ہوتی ہے تو ست بسم اللہ،
لیکن یہ سب کچھ ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سیاست میں اخلاقی قدروں کے ساتھ ساتھ آئین اور قانون کی پاسداری ہو۔
یہاں آئین میں صاف لکھا ہے کہ سینٹ ایلکشن خفیہ رائے دہی سے ہوں گے لیکن اس کے باوجود ملک کی سب سے بڑی عدلیہ اس پر تماشا لگائے رکھتی ہے۔سینیٹ ہال میں کیمروں کی تنصیب اور پھر گیلانی کی جیت کو ہار میں بدلنے کے بعد کون سے ضابطے اور دستور کی بات کی جائے؟
کل اگر یہی عدلیہ اپوزیشن کے 160 سیٹوں پر ضمنی انتخاب کا حکم جاری کردے تو پھر کیا ہوگا؟
بہرحال استعفوں پر سیر حاصل گفتگو ہوسکتی ہے۔
اصل موضوع زرداری صاحب کا میاں صاحب کے واپس آنے سے متعلق وہ خبر ہے جس پر آج حکومتی ایوانوں میں جشن منایا جارہا ہے کیونکہ یہی راگ دو درجن ترجمان گزشتہ ایک سال سے گا رہے ہیں۔
پوری دنیا کو معلوم ہے کہ میاں صاحب کلثوم نواز کو بستر مرگ پر چھوڑ کر مریم نواز کے ہمراہ خود گرفتاری دینے آگئے تھے ۔ اس کے انصاف کا کیا ہوا اس کی حقیقت مرحوم ارشد ملک کی ویڈیو میں موجود ہے۔
نیب کی حراست میں میاں صاحب کے صحت کے ساتھ کیا کھلواڑ کھیلا گیا سب تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی گواہی پیپلز پارٹی والے بھی دیتے رہے اور عمران نیازی اور اس کے ترجمان بھی۔
اس کے بعد میاں نواز شریف کے واپسی کا مطالبہ کرنا دراصل کسی اور کے ایجنڈے کی تکمیل کے سواء کچھ نہیں۔میاں صاحب پاکستان میں ضمانت پر رہا ہوتے ہوئے جلسے جلوسوں میں شرکت کرتے رہے۔
دوسری جانب جب سے پی ڈی ایم بنی ہے زرداری صاحب نے ایک بھی جلسے میں شرکت نہیں کی۔ میاں صاحب کی طرح وہ بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے رہتے ہیں لیکن اس پر زرداری صاحب کو خراب صحت کی وجہ سے مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاتا۔
آج تو میاں صاحب لندن سے ویڈیو جاری کرکے ان کی طبعیت صاف کردیتے ہیں لیکن پاکستان واپسی کی صورت میں سیدھا جیل میں جائیں گے اور پھر اس سہولت سے بھی محروم ہو جائیں گے اور جن کو میاں صاحب کی تقریروں سے تکلیف پہنچتی ہے وہ یہی چاہتے ہیں۔
لہذا پاکستان آنے کی صورت میں وہ اپنی جماعت اور ان کے کارکنان سے قریب ہونے کے باوجود دور ہوں گے۔
میاں نواز کوئی پہلے لیڈر نہیں جو بیرون ملک بیٹھ کر تحریک چلا رہے ہیں، امام خمینی نے فرانس میں جلا وطنی اختیار کی اور اپنے جانثاروں کی قیادتِ کی۔
1983ء میں ضیاء الحق کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک زوروں پر تھی جس کی وجہ سے 1984ء میں بے نظیر کو جیل سے رہائی ملی لیکن انہوں نے تحریک کی قیادت کرنے کی بجائے برطانیہ میں جلاوطنی کو ترجیح دی۔ وہاں سے انہوں نے اپنی جماعت کو دوبارہ منظم کیا۔ وہ مناسب وقت کا انتظار کرتی رہی اور دو سال بعد 1986ء میں اس وقت لوٹی جب ملک سے مارشل لاء کا سایہ اٹھ چکا تھا۔
یاد رہے اس وقت تک آصف علی زرداری صاحب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کے والد حاکم علی زرداری صاحب نے بھی طویل عرصے کے بعد پیپلز پارٹی میں دوبارہ شمولیت بینظیر بھٹو کے واپس آنے کے بعد اختیار کی۔اسی طرح میاں صاحب کو تو پرویز مشرف نے خاندان سمیت ملک بدر کر دیا تھا لیکن بینظیر بھٹو نے حفظ ماتقدم کے طور پر آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کاٹی تھی۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین گزشتہ 30 سالوں سے لندن میں بیٹھ کر پاکستان میں اپنی جماعت کو چلاتے رہے جس دن سے الطاف حسین کا بو کاٹا گیا ہے اس دن سے ایم کیو ایم والے یتیموں کی طرح در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
آخری بات !
کٹ پتلی حکومت اور اس کو لانے والے ہر میدان میں ناکامی سے دوچار ہیں۔ اس وقت الیکٹرانکس اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔مہربانوں کا اس میدان میں وسیع تجربہ ہے کیونکہ فوجی اسٹریجڈی کے مطابق آدھی جنگ پروپیگنڈے کے بل بوتے پر جیتی جاسکتی ہے۔ اپنا پاء غفور تو اسی لئے اسے ففتھ جنریشن وار کہا کرتا تھا جو جنگ کے میدانوں کے بجائے میڈیا کے میدان میں لڑی جائے گی۔
روزانہ وزیر اعظم کے سربراہی میں دو درجن ترجمانوں کا اجلاس ہوتا ہے اور پھر وزیر مشیر ٹی وی چینلز پر آکر الف مد آ سے شروعات کردیتے ہیں۔باقی میڈیا چینلز کو کنٹرول کرنے کے لئے لیاقت بھائی کافی ہیں۔
پی ڈی ایم اجلاس ختم ہونے اور باضابط اعلامیہ جاری ہونے سے قبل کے ذرائع ان ہی کے ہیں اور یہ بھی جان لیں کہ ہر جماعت میں اب بھی ایک چوہدری نثار اور اعتزاز احسن چھپا ہوا ہے۔
لہٰذا پٹواری اور جیالے شانت رہیں یوتھیوں کو ناچنے کا مزید موقع دیں ۔یہ جنگ بہت طویل ہے۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں