اسد عمر بدستور وزارت خزانہ کے عہدہ پر موجود لسٹ خود دیکھ لیں

[

اسلام آباد: (اہم نیوز) وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیوں کے باوجود مستعفی وزیرِ خزانہ اسد عمر اور وزیرِ صحت عامر محمود کیانی بدستور عہدوں پر موجود ہے۔ وزیروں، مشیروں اور معاون خصوصی کی نئی لسٹ جاری کر دی گئی۔

گزشتہ روز اسد عمر کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ سے مستعفی ہو گئے تھے، ان کے ساتھ ساتھ عامر محمود کیانی جو کہ وزیر صحت تھے ان کو بھی تبدیل کیا گیا تھا لیکن آج کیبنٹ ونگ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق اسد عمر تاحال وفاقی وزیر خزانہ ہیں اور جو قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر فہرست ہے اس میں بھی اسد عمر وفاقی وزیر خزانہ ہیں جبکہ وزیر صحت عامر محمود کیانی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ فواد چوہدری اور غلام سرور خان کے قلمدان تبدیلی سے متعلق نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے۔
یاد رہے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں۔ فواد چودھری، غلام سرور اور شہر یار آفریدی کی وزارت تبدیل کر دی گئی، حفیظ شیخ مشیر خزانہ، اعجاز شاہ کو وزیر پارلیمانی امور کے بجائے وفاقی وزیر داخلہ اور اعظم سواتی کو وزیر پارلیمانی امور بنا دیا گیا جبکہ فردوس عاشق اعوان اطلاعات، ڈاکٹر ظفراللہ مرزا صحت اور ندیم بابر پٹرولیم کے معاون خصوصی ہوں گے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیہ کے مطابق فواد چودھری سے وزارت اطلاعات لے کر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور غلام سرور خان سے وزارت پٹرولیم لے کر وزارت ہوا بازی کا قلمدان دیا گیا ہے۔ شہریار آفریدی اب وزیر مملکت برائے داخلہ نہیں بلکہ وزیر مملکت برائے ریاستی و سرحدی امور (سیفران) ہوں گے، محمد میاں سومرو سے ایوی ایشن ڈویژن کا اضافی چارج لے لیا گیا، اب وہ صرف نجکاری کے وزیر ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق فواد چودھری مختلف تنازعات کا شکار رہے، ان کی پارٹی رہنما نعیم الحق اور ایم ڈی پی ٹی وی راشد خان کے ساتھ چپقلش ہوتی رہی، غلام سرور کو مہنگی گیس اور شہر یار آفریدی کو غیر ذمہ دارانہ بیان پر تبدیل کیا گیا، شہریار آفریدی نے ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسجانی سے متعلق بیان دیا تھا حالانکہ ان کا انتقال ہو چکا تھا۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں