بڑی خبر امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ پر حملہ ہو گیا کب اور کہاں رپورٹ پڑھئے

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ کی ریاست انڈیانا کے شہر میں ہونے والے پولیس کے ‘نیشنل رائفل ایسوسی ایشن’ کے سالانہ کنونشن میں شرکت کے لیے جیسے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیج پر پہنچے تو وہاں موجود ایک شخص نے ان کی طرف موبائل فون پھینک دیا امریکی سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے فوری طور پر موبائل فون پھینکنے والے کو حراست میں لے کر تقریب سے باہر نکال دیا۔ موبائل فون پھینکنے والے نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مخالف نہیں ہے بلکہ ان کا حامی ہے۔
سکیورٹی اہلکار موبائل فون پھینکنے والے شخص کے عزائم اور ارادے جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔ واضع رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماہ رواں کے آغاز پر امریکی سیکرٹ سروس کے سربراہ کو ان کے منصب سے فارغ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ انہوں نے سیکرٹ سروس کی سربراہی کے لیے جیمز مرے کا نام تجویز کیا تھا۔
موبائل فون پھینکنے کے حوالے سے اپنی نوعیت کا شاید یہ پہلا واقعہ ہے جو رپورٹ ہوا ہے ورنہ اس سے قبل تو عالمی سیاسی رہنماؤں پر جوتے پھینکے جانے کے درجنوں واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہتھیاروں کی تجارت کے عالمی معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیشنل رائفل ایسوسی ایشن (این آر اے) کے انڈیانا پولیس اسپورٹس اسٹیڈیم میں ہونے والے سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران ایک دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے اسلحے کی تجارت کے معاہدے کو مسترد کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ امریکی اقتدار اعلیٰ کیلئے خطرے کا باعث ہے۔ صدر ٹرمپ نے امریکی سینیٹ سے درخواست کی کہ معاہدے کی توثیق کے عمل کو مسترد کیا جائے اور منسوخ کردہ معاہدے کو میرے دفتر میں پیش کیا جائے تاکہ میں اسے ٹھکانے لگاؤں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں اس معاہدے سے امریکا کو دستبردار کروں گا جس کے تحت روایتی ہتھیاروں جن میں چھوٹے ہتھیار، جنگی ٹینکس، جنگی جیٹ اور بحری جہاز شامل ہیں، کو ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری انتظامیہ اقوام متحدہ کے آرمز ٹریڈ ٹریٹی کی کبھی توثیق نہیں کرے گی، ہم اپنے دستخط سے دستبردار ہورہے ہیں، اقوام متحدہ کو جلد باضابطہ نوٹس مل جائے گا کہ امریکا نے اس معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔
صدر نے خطاب میں کہا کہ ہم غیر ملکی نوکر شاہی کو ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ’دوسری ترمیم‘ کی آزادیوں کو روند ڈالے لہٰذا ہم اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کی تجارت کے معاہدے کی توثیق نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ دوسری ترمیم اسلحہ رکھنے والوں کے حقوق کی ضمانت دیتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ معاہدے پر نظرثانی کے بعد صدر نے اس دستاویز کو منسوخ کردیا ہے، جس پر 2013ء میں سابق صدر اوباما کے دور میں سابق وزیر خارجہ جان کیری نے دستخط کیے تھے، یہ معاہدہ 2014ء میں وجود میں آیا جس کی اب تک 96 ملکوں نے توثیق کی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق 25 میں سے 17 چوٹی کے ہتھیاروں کے برآمد کنندگان نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے جس میں روس اور چین بھی شامل ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا میں پہلے ہی روایتی ہتھیاروں کی منتقلی کے ضابطے موجود ہیں لیکن دیگر ملکوں کے پاس ایسا نہیں ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اقتدار میں آکر ڈونلڈ ٹرمپ اوباما دور میں ایران سے ہونے والے جوہری معاہدے سے بھی امریکا کو علیحدہ کرچکے ہیں۔
اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ یکم جون 2017 کو عالمی موسمیاتی تبدیلی کو روکنے کیلئے 2015 میں ہونے والے پیرس کلائمٹ چینج ایگریمنٹ سے بھی علیحدگی اختیار کرچکے ہیں۔ اس معاہدے پر بھی اوباما کے دور میں دستخط کیے گئے تھے۔ ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ یہ معاہدے امریکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہے۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں