پرانی گاڑیاں فروخت نئی خریداری بھی سامنے آگئی کس محکمہ نے ریکارڈ توڑا رپورٹ پڑھیں

اسلام آباد (اہم نیوز)قومی اسمبلی میں کابینہ ڈویژن نے اپنے تحریری جواب میں انکشاف کیا ہے کہ موجودہ حکومت میں جنتی گاڑیاں فروخت کی گئیں اس سے زیادہ خریدی جا چکی ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کابینہ ڈویژن نے رواں مالی سال کے دوران خریدی گئی گاڑیں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں۔جواب میں کہا گیا ہے کہ مختلف اداروں کے لیے 171 خریدی گئیں جن میں قومی احتساب بیورو نیب سب سے آگے رہا جس نے پانچ موٹر سائیکل سمیت 54 گاڑیاں خریدیں۔
اس طرح موٹروے پولیس نے 30 اور نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے 13گاڑیاں خریدیں۔کابینہ ڈویژن کے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ این ایچ اے نے 9 اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے بھی 7گاڑیاں خریدی ہیں۔
گذشتہ برس ستمبر میں وزیراعظم ہاؤس کی 102 گاڑیاں نیلامی کے لیے پیش کی گئی تھیں جن میں سے 62 گاڑیاں نیلام ہوئی تھیں۔ وزیراعظم ہاؤس کی 102 گاڑیوں کی نیلامی کےپہلے روز ہی 62 گاڑیاںنیلام ہو گئیں جن میں سے مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیاں تو فوری طور پر بُک کی گئیں ، تاہم بم ، بلٹ پروف اور دیگر لگژری گاڑیوں کی نیلامی میں حکومت کی توقعات پوری نہ ہو سکیں۔
وزیراعظم ہاؤس کے ایڈمنسٹریٹر میجر آصف نے بتایا کہ اس نیلامی کی مدد سے 2 ارب روپے اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے روز میں 102 گاڑیوں میں سے صرف 62گاڑیاں نیلام کرنے میں کامیاب ہو سکی جس کی مالیت صرف 18 کروڑ روپے ہے۔ نیلامی میں شرکت کے لیے آنے والوں کے لیے ایک پنڈال تیار کیا گیا تھا، جہاں کم و بیش 500 لوگ موجود تھے۔
گاڑیوں کی نیلامی کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں اب تک 70 گاڑیوں کی نیلامی ہو چکی ہے، یہ گاڑیاں مارکیٹ قیمت سے زیادہ فروخت ہوئی ہیں، انہوں نےکہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ہم نے کام شروع کر دیا ہے۔۔واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے کفایت شعاری مہم کے تحت تمام اضافی گاڑیاں نیلام کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ سرکاری خزانے سے ہونے والے اخراجات کی بچت کی جا سکے۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں