شاہدآفریدی نے اپنی کتاب میں وزیراعظم عمران پر تنقید کا نشتر چلا دیا

کراچی(اہم نیوز) سابق سٹار آل راؤنڈر شاہدخان آفریدی نے اپنی کتاب میں وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے کرپشن کے خلاف لڑائی کی لیکن کیا انکا اپنا گھر صاف ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا عمران خان کے ساتھ صاف ستھرے ہیں؟ اور کیا ان کی جماعت صاف ستھری ہے؟۔ شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ ذاتی مفادات کے لیے عمران خان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کا اپنا گھر صاف نہ ہو تو دوسروں پر چیختے اچھے نہیں لگتے۔ انہوں نے عمران خان سے سوال کیا کہ عمران خان نے کرپشن کے خلاف لڑائی کی لیکن کیا ان کا اپنا گھر صاف ہے؟ شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں اور بھی بہت سے لوگوں پر تنقید کی ہے۔
شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں کرکٹ لیجنڈز سمیت کسی کھلاڑی کو نہیں بخشا۔
انہوں نے جاوید میانداد، وقار یونس، شعیب ملک سمیت اہم کھلاڑیوں ہر سخت تنقید کی اور اس کے علاوہ اہم رازوں سے بھی پردہ اٹھایا،میڈیا رپورٹس میں بتایا گیاہے کہ شاہد آفریدی نے اپنی کتاب ” گیم چیننجر” میں لکھا ہے کہ پہلا ون ڈے کھیلا تو عمر 16سال نہیں بلکہ 19 سال تھی۔ جاوید میاںداد کو میرے بیٹنگ اسٹائل سے نفرت تھی۔1999ء میں چنئی ٹیسٹ سے پہلے نیٹ پریکٹس نہ کرنے دی گئی۔
میاںداد کو بڑا کھلاڑی سمجھا لیکن وہ چھوٹے آدمی ہیں۔پریزنٹیشن تقریب میں مجھ سے زبردستی تعریف کروائی گئی۔جب کہ وقار یونس سے متعلق شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ میرے خلاف لابنگ کرتے تھے۔ وقار یونس اوسط درجے کے کپتان اور خوفناک کوچ تھے۔وقار یونس جب کوچ بنے تو ہر معاملے میں مداخلت کی اس لیے ان سے اختلافات رہے۔شعیب ملک سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ کپتانی کے لیے فٹ نہیں تھے لیکن ا سکے باوجود ان کو کپتانی دی گئی۔شعیب ملک کانوں کے کچے تھے اور برے لوگوں سے مشورے لیتے تھے۔سلمان بٹ کو نائب کتپان بنانا بھی غلط تھا۔اعجاز بٹ وقار یونس کی باتوں میں آ گئے تھے،شاہد آفریدی نے یہ بھی کہا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس کے آپس کے تعلقات ہمیشہ کشمکش کا شکار رہے۔

Custom Advertisement

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں