اپوزیشن جماعتوں کی بیٹھک اب اقتدار نہیں ملک بچانے کیلئے ہے،میاں افتخار حسین

اپوزیشن جماعتوں کی بیٹھک اب اقتدار نہیں ملک بچانے کیلئے ہے،میاں افتخار حسین

اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی بقا داؤ پر لگا کر جو گیم کھیلی اسے ناکام بنانے کا وقت آ چکا ہے۔

ملک دشمن حکومت کی سیاسی کشتی ڈوبنے کے قریب ہے،کرپٹ ٹولے سے پورا حساب لیا جائے گا۔

سٹاک ایکسچینج کریش اورسرمایہ کاروں کیلئے پاکستان کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔

تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے کام کریں تو کبھی مشکلات جنم نہ لیں

ثاقب نثار نے کس کے اشارے پر ایک جھوٹے اور دھوکہ باز شخص کو صادق و امین کا سرٹیفیکیٹ دیا؟
قرضہ لینے کی بجائے پورا ملک آئی ایم ایف کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے۔اپوزیشن اجلاس سے خطاب

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ملک کی بقا کی قیمت پر تمام سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگا کر ایک نااہل عمران نیازی کو سپورٹ کیا، اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اے پی سی بلانے کے فیصلہ خوش آئند ہے تاہم اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد اب اقتدار کیلئے نہیں بلکہ ملک بچانے کیلئے ہے، اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے افطار ڈنر کے موقع پر مشترکہ اجلاس اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک دشمن حکومت کی سیاسی کشتی ڈوبنے کے قریب ہے،عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں سے پورا حساب لیا جائے گا،اے این پی کے مرکزی ترجمان زاہد خان اور صوبائی صدر ایمل ولی خان بھی پارٹی کی جانب سے شریک وفد کا حصہ تھے، میاں افتخار حسین نے پی ٹی آئی کی حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے،روپے کی قیمت قابو سے باہر اور سٹاک ایکسچینج کریش ہو چکی ہے، سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان کے دروازے بند ہو چکے ہیں اور آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے پورا ملک ہی آئی ایم ایف کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کیلئے سیکورٹی رسک ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے کردار نے ملک کی بقا داؤ پر لگا دی،آئین پاکستان کی رو سے تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے کام کریں تو کبھی مشکلات جنم نہیں لیں گی، انہوں نے اپوزیشن کی بیٹھک کو نیک شگون قرار دیتے ہوئے کہا کہ آٹھ ماہ قبل اے این پی قائد اسفندیار ولی خان نے اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی تجویز پیش کی تھی لیکن اس وقت مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کیا جس کا خمیازہ آج قوم نے ملک کے نقصان کی صورت میں بھگتا، انہوں نے کہا کہ آٹھ ماہ میں پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی،اور ایسی صورتحال میں اب عوام کی نظریں اپوزیشن جماعتوں پر ہیں،انہوں نے کہا کہ عید الفطر کے بعد فیصلہ کن راؤنڈ شروع ہو گا اور چاہئے کہ تمام سیاسی جماعتیں ماہ رمضان میں اپنی تیاری مکمل کر لیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی رابطہ عوام مہم کا آغاز کرے گی اور نا اہل اور کرپٹ حکمرانوں کے خلاف پارلیمنٹ سمیت عوامی سطح پر بھی احتجاج کیا جائے گا،حکومت کا جانا نوشتہ دیوار سے اور اب اسے مزید اقتدار میں رہنے دینا بڑی تباہی کو دعوت دینے کے برابر ہے، انہوں نے حکومتی ایوانوں کی طرف سے اپوزیشن اجلاس پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے تمام سیاسی و غیر سیاسی کرپٹ اور لٹیرے عمران خان کی چھتری تلے ہیں، صوبائی حکومت کے ترجمان اپوزیشن پر الزامات سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لیں جنہیں خود ان کی اپنی جماعت حکومت سے فارغ کر چکی ہے، بدقسمتی سے کپتان کی ٹیم میں ایک بھی شخص اس قابل نہیں جسے بات کرنے کے قابل سمجھا جائے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں نے اپنی زبانیں کنٹرول نہ کیں تو اپوزیشن جماعتیں بھی جواب کا حق محفوظ رکھتی ہیں،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے یاد رکھیں کہ ان کا لیڈر ایک کرپٹ اور جھوٹا انسان ہے جس نے سوشل میڈیا کے بعد اب سرکاری میڈیا کو اپنے جھوٹ کی مشین بنا رکھا ہے، انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس سے استفسار ہونا چاہئے کہ اس نے کس بنیاد پر ایک نااہل کرپٹ اور جھوٹے انسان کو صادق و امین کا سرٹیفیکیٹ دیا تھا،انہوں نے کہا کہ حکومت کو گھر بھیجے بغیر ملک و قوم کو مسائل کی دلدل سے نہیں نکالا جا سکتا۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں