نریندرمودی اور عمران خان میں تاریخی مکالمہ ۔ جیت کس کی ھوئی ۔ رپورٹ افشین ملک

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کے مطابق اگلے روز وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ٹیلیفون کیا اور انھیں لوک سبھا کے انتخابات میں، ان کی جماعت بے جے پی کی کامیابی پر مبارکباد دی، وزیراعظم عمران خان نے دونوں ممالک کی قیادت کو مل کر عوام کی بہتری کے لیے کام کرنے کی خواہش کا اظہارکیا۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم نے جنوبی ایشیا کی خوشحالی، ترقی اور امن کے لیے اپنی سوچ کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ وزیر اعظم مودی کے ساتھ مل کر ان اہداف کے حصول اور پیش رفت کے لیے پرعزم ہیں ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیراعظم کی طرف سے کامیابی پر مبارکباد دینے پر شکریہ ادا کیا۔

صحافتی زبان واصطلاح میں اسے پاک بھارت تعلقات کی سرد مہری کے خاتمہ کا کرٹین ریزرکہنا چاہیے۔ وزیراعظم عمران کا مودی کی انتخابی مہم کے دوران بے جے پی حکومت اور مودی کے اندازکار سے یہ نتیجہ اخذکرلینا کہ اگر مودی انتخابات جیت جاتے ہیں تو ان سے پاکستان بات چیت کے ایک امید افزا ماحول میں مکالمہ کی ابتدا کرسکتا ہے اور نریندر مودی الیکشن میں فتحیابی کے بعد برصغیر کے دو ایٹمی ملکوں اور پڑوسیوں سے دیرینہ مسائل اورکور ایشوز پر بات چیت کی بہتر پوزیشن میں ہونگے کیونکہ مودی ہر قسم کے داخلی سیاسی ، سفارتی ، تزویراتی اور عسکری  دباؤ اور پیچیدگیوں سے آزاد ہونے کے ساتھ ساتھ اس الجھن میں بھی گرفتار نہیں ہونگے کہ اگر پاکستان سے معاملات پر برف پگھل گئی تو ایسا بھی ہوسکتا، ویسا بھی ہوسکتا ہے یا کانگریس سمیت بھارت کی دیگر سخت موقف رکھنے والی سیاسی اکائیاں کہیں مودی سرکارکے ناک میں نہ دم کریں ۔

یہ ہائپوتھیسیس یا مابعد سیاسی امکانات وخدشات پاک بھات معاملات کا جمہوری حسن بھی ہیں جب کہ خطے کی سیاسی کشمکش کی جمود زدہ سفارتی ناکامیوں اور سیکریٹری خارجہ لیول کی پسپائیوں اور مسئلہ کشمیرکے ٹھوس حل سے لگا تارگریز پائیوں کی داستان کا تلخ وافسوسناک باب بھی۔ لیکن اس صورتحال اور ڈیڈ لاک کوکوئی سیاسی تدبیر اگرکارگر بناسکتی ہے تو وہ مودی ہوں یا عمران خان ان دونوں کو آزمانے میں تاریخ کی اجازت کی ضرورت سے انکاری کون ہوگا۔

غالبا کوئی فہمیدہ انسان جو سرحدکے اس پار رہتا ہو یا اس پار وہ اس بات کی خواہش رکھتا ہوگا کہ پاک بھارت معاملات اب میز پر ہی ڈسکس ہونے چاہئیں، جنگیں لڑی چکیں، سفارتی نوک جھونک کا زمانہ بھی گزرگیا اب اکیسویں صدی ہے بھارت رادھا کرشن کے فلسفہ اور حسن تدبر سے سبق سیکھے اور عمران خان قائد اعظم کی سیاسی بصیرت کو پیش نظر رکھیں تو بات آگے بڑھ سکتی ہے، بھارتی چینلزکے منہ پھٹ اینکرز اور پرنٹ میڈیا کے سنجیدہ اور بین الرائے مبصرین مودی کی دوبارہ وزارت عظمیٰ پر فروکش ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے خطے کی آیندہ صورتحال کا ایک جارحانہ منظرنامہ بھی پیش کرتے ہیں جب کہ بعض سیاسی پنڈت مودی کو ’’اب کے اے دوست بہ انداز دگر آیا ہوں ‘‘ کے   اسرار الحق مجازی روپ میں پیش کرتے ہیں مگر ایک طبقہ بھارت میں مزاحمت کار نظریاتی سیاسی اور قوم پرستانہ مکتب فکرکا بھی ہے جس کی اقتدار کی غلام گردشوں میں سنی جاتی ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اس بار مودی وہ تاریخ ساز غلطیاں دہرانے کے متحمل نہیں ہوسکتے جو انھیں نہرو ڈاکرائن کے مخالف منصب پر فائزکرچکی ہیں، انھیں عمران کی پیشکش کا مناسب اور زمینی حقائق کے ساتھ تاریخ کے نئے تقاضوں کی روشنی میں جائزہ لینا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں بھارت وزیر اعظم کو تاریخ نے ایک زریں موقع عطا کیا ہے وہ پاکستان سے مذاکرات کے لیے ڈپلومیسی کی شفاف راستوں کا تعین کرتے ہوئے عمران خان سے بات چیت کا نہ صرف عندیہ دیں گے بلکہ ان پر لازم ہوگا کہ پاک بھارت خیرسگالی اور خطے میں امن وترقی اور دونوں عوام کے مابین تعلقات کے فروغ اور مسئلہ کشمیر پر منصفانہ اور بامقصد بات چیت پر اتفاق رائے پیدا کریں۔

بھارتی سیاست سے پاکستان مخاصمت عنصر اور زہرناکی کا خاتمہ مودی ہی کرسکتے ہیں، مودی کے اختیار میں ہوگا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا مینڈیٹ پورے آئینی استحقاق کے ساتھ خود استعمال کریں، اپنی طاقتور سیاسی جماعت بے جے پی کے صاحب الرائے اور پاک بھارت تعلقات کی حساسیت سے آگہی کے حامل مرکزی رہنماؤں سے مشاورت کریں۔

یہ فکشن نہیں حقیقت پسندی او عملیت پر مبنی سیاسی روش کا جاری صدی کا آزمایہ نسخہ ہے، وقت یہی ہے کہ مودی اپنی تقریب حلف برداری سے پہلے ان معاملات پر فیصلہ کن مشاورت کو مکمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔اگرچہ مبصرین کے مطابق عمران خان کی مبارکباد اور جنوبی ایشیا میں امن وترقی کے لیے ملکر کام کرنے کی پیشکش پر مودی نے کھل کر کوئی کمٹمنٹ نہیں کی لیکن اصل کمٹمنٹ مودی اور عمران کی اپنے عوام کی فلاح وبہبود کی ہے۔

کسی حکمران کو نہیں بھولنا چاہیے کہ غربت برصغیر کے گھرکی دیواروں پر بال کھولے سورہی ہے۔ یقین کرلینا چاہیے کہ پاک بھارت بات چیت سے امن کے امکانات روشن اور دیرینا تنازعات کا کوئی پائیدار اور جمہوری حل مل ہی جائے گا۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں