شہید محمد مرسی کے حق میں ٹوئیٹ پاکستان کے پروفیسر کو مہنگا پڑ گیا۔

جدہ(اہم نیوز) سعودی عرب میں درس و تدریس کی غرض سے مقیم ایک پاکستانی پروفیسر اپنے ٹویٹ کی وجہ سے مصیبت میں گھِر گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوشیر خان سعودی عرب کی ایک سرکاری یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تدریسی فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ چند روز قبل مصر کے سابق سزا یافتہ صدر ڈاکٹر محمد مرسی ایک اور مقدمے کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں انتقال کر گئے۔

جس پر عسیر ریجن کے شہر ابہا کی شاہ خالد یونیورسٹی میں پڑھانے والے پروفیسر نوشیر خان نے ایک ٹویٹ کیا جس میں موجودہ مصری صدر جنرل عبدالفتاح السیسی کو قاتل قرار دیا گیا ۔ اس ٹویٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی گئی تھی جس میں سیسی کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ کسی بات پر قہقہہ لگاتے دیکھا جا سکتا تھا۔

اس تصویر کے نیچے پروفیسر نوشیر خان نے یہ کیپشن دیا ”قاتل سیسی اپنے دوستوں کے ساتھ خوشگوار موڈ میںہے“۔

اس ٹویٹ کو دیکھ کر سعودی عرب میں سوشل میڈیا صارفین نے اس کی رپورٹ کر دی۔ جس پر سعودی حکام نے فوری طور پر پروفیسر نوشیر خان کو یونیورسٹی کی ملازمت سے برخاست کر دیا اور اُن کے خلاف سعودی سلامتی کے خلاف بیان بازی کرنے کے الزام میں تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مرحوم مصری صدر مرسی کی تنظیم الاخوان کو سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

سعودی مملکت میں صدر مرسی کے حق میں بیان بازی کی سختی سے ممانعت ہے اور ایسا کرنے والوں کو عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سعودی قانون کے مطابق اگر کوئی شخص سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع ابلاغ پر سعودی سلامتی کے خلاف کوئی بیان بازی کرتا ہے یا اشتعال انگیزی کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ الزام درست ثابت ہونے کی صورت میں مجرم کا سر قلم کر دیا جاتا ہے۔
https://ahemnewshd.com/latest/3453


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں