کشمیر پاکستان بن کے رھے گا رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ۔بیورو رپورٹ

اسلام آباد(بیورورپورٹ) آزادی کشمیر کا سورج ضرور طلوع ہوگا،پاکستانی عوام تحریک آزادی کشمیر کی پشتی بان ہیں۔ ان خیالات کا اظہار قائم مقام امیر جماعتِ اسلامی پاکستان و سیکریٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے ملی یکجہتی کونسل کے تحت اسلام آباد میں ’آزادیئ کشمیر، اُبھرتا سورج‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے لیے اب ممکن نہیں رہا کہ اپنے ظلم کے ساتھ کشمیریوں کو غلامی کی زنجیریں پہنائے رکھے۔آج افغانی، فلسطینی اور کشمیری عالمی بے حسی کے باوجود اپنا سب کچھ قربان کر رہے ہیں اور عالمی استعمار و استکبار کے مقابل ڈٹ کر کھڑے ہیں۔عالمی برادری بالخصوص امریکا اور ہندوستان کی یہ ترجیح ہے کہ پاکستان جو اسرائیل کی راہ کا کانٹا ہے اسے رام کیا جائے۔آج مرحلہ ہے کہ ہم مضبوط اعصاب، حکمت و تدبر کے ساتھ کھڑا ہوں۔ بھارتی جارحیت کے مقابلے میں پیدا ہونیوالی قومی یکجہتی کو حکومتی سطح پر چھوٹے اقدامات کے ذریعے ختم نہیں کرنا چاہیے۔ہماری قومی کشمیر پالیسی کو بھی واضح ہونا چاہیے۔ سیمینار سے ناب امیر جماعت اسلامی پاکستان پروفیسر محمد ابراھیم خان، حریت رہنما غلام محمد صفی،جمعیت علمائے پاکستان کے سیکریٹری جنرل سید صفدر گیلانی، صدر ملی یکجہتی کونسل آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی،تنظیم اسلامی کے رہنما ڈاکٹر ضمیر اختر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر کے نمائندہ وفد نے بھی سیمینار میں خصوصی شرکت کی۔ نیز کونسل میں شامل جماعتوں کی صوبائی و ضلعی قیادت کے علاوہ سول سوسائٹی کے اراکین کی ایک بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تقریب کے مہمانِ خصوصی صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ اکہتر برس گزر چکے ہیں، ہندوستان نے کشمیروں پر ظلم کی انتہا کردی ہے،انہیں ہر طرح کا لالچ دینے کی کوشش کی، لیکن آج بھی سری نگر میں یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ بھارت کشمیر کو چھوڑ دو،یہ ہندوستان کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کی وحدت کی خواہش پاکستان کے کروڑوں انسانوں کی خواہش ہے اسی طرح آپ کی کشمیر سے یکجہتی پاکستانی عوام کی خواہش ہے۔ پاکستانی عوام نے کسی بھی حکومت کو کشمیر کی آزادی کے موقف سے ہٹنے نہیں دیا۔انھوں نے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کشمیر کے لیے جماعتِ اسلامی کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیری جوان اٹل ارادہ کر چکے ہیں کہ وہ آزادی لے کر رہیں گے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد دنیا کی خاموشی بھی ٹوٹی ہے اور ہندوستان سے سوالات کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔اہل جموں و کشمیر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پیش کیے جانے والے تمام فارمولوں کو رد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری اپنے حق خودارادیت اور پاکستان سے وابستگی پرکبھی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ ہم اسرائیل سے بھی کہنا چاہتے ہیں کہ وہ کشمیر سے دور رہیں۔انھوں نے کہا کہ میں آوٹ آف باکس حل کی بات کرنے والوں سے یہ کہوں گا کہ کشمیریوں سے پوچھے بغیر کوئی فیصلے کو کشمیری عوام کبھی قبول نہیں کریں گے۔ہم نہیں چاہتے کہ کشمیر دو نیوکلیائی طاقتوں کے مابین جنگ کا باعث بنے تاہم ہم چاہتے ہیں کہ اب مسئلہ کشمیر کو حل ہونا چاہیے۔اسے قضیے کو اپنی منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تمام کشمیری قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم امت کی سطح پر ہونی چاہیے۔ آج امت اپنی تقسیم کے سبب نقصانات اٹھا رہی ہے۔ اتحاد و وحدت ہماری اولین ضرورت ہے۔تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان مسلم لیگ (ن) سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ کشمیری دنیا بھر میں تشدد سے دور رہنے والے لوگوں کے طور پر معروف تھے، تاہم آج انھوں نے جس صبر اور استقامت سے قربانیاں دی ہیں اس کی کوئی دوسری نظیر نہیں ملتی ۔ کشمیری گذشتہ اکہتر برس سے سیاہ استعمار ہندوستان کے مظالم کو برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایسی نشست کے انعقاد پر زور دیا جس میں کشمیر پالیسی کی جزیات کوزیر بحث لایا جاسکے اور عالمی سطح پر اس مسئلہ کو موثر طریقے سے اٹھا یا جاسکے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی راہنما مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا کہ عالمی اداروں کی موجودگی، مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی واضح اور دوٹوک قراردادوں کے باوجود مسئلہ کشمیر حل طلب ہے۔ او آئی سی نے ہندوستان کی وزیر خارجہ کو مہمان خصوصی بناکر ہمارے احتجاج کو نظر انداز کیا۔مسلمان نہ جانے کس خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ ہندوستان کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہ اگر اکہتر برس کی فوجی دہشت گردی سے مسئلہ حل نہیں ہوسکا تو اب پر امن حل کی جانب قدم بڑھانا چاہیے۔ اسی طرح اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کو بھی اس پر غور کرنا چاہیے۔ پاکستان کو بھی اس سلسلے میں مضبوط سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے کہا کہ جب کسی قوم کی روح، اس کا دل، اس کا دماغ آزادی کو اپنا لے تو فقط جسم ہی رہ جاتا ہے جسے آزادی حاصل کرنی ہوتی ہے۔ کشمیر کے جوانوں نے اس آزادی کو اپنا لیا ہے۔آزادی کا فیصلہ ہمیں کرنا ہے کیونکہ ہماری نظریں لندن اور امریکا پر جمی ہوئی ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کا کیا حل نکالتے ہیں۔کشمیری عوام کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ بھارتی حکومت کے پٹھو بھی آزادی کشمیر کی بات کیے بغیر وہاں نہیں چل سکتے۔ہمیں کشمیر اور فلسطین کے مسئلے پر مسلمان حکومتوں کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ahemnew1/public_html/wp-content/themes/Ahmad Theme/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں